بیجنگ :چائنا میڈیا گروپ نے ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کا خصوصی انٹرویو کیا۔ انٹرویو کے دوران مسک نے چینی مارکیٹ، جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل میں تعاون سے متعلق اپنے تازہ ترین خیالات اور مشاہدات کا اظہار کیا۔ مسک نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ ایک عظیم رہنما ہیں۔ ان کی قیادت میں چین نے ترقی کے میدان میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ چین جائیں تو ہر گزرتے سال کے ساتھ نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ چینی عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ تمام کامیابیاں صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل اور کامیابیاں حاصل کرنے والے رہنما ہیں۔ چین میں ٹیسلا کے کاروبار کا ذکر کرتے ہوئے مسک نے شنگھائی سپر فیکٹری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے پاس مینوفیکچرنگ کی انتہائی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ ٹیسلا کی شنگھائی سپر فیکٹری کی کامیابی چینی ٹیم کی مرہونِ منت ہے۔ یہ ٹیم باصلاحیت، محنتی اور قابلِ بھروسہ افراد پر مشتمل ہے، جبکہ اس کی مصنوعات کا معیار اعلیٰ اور پیداواری کارکردگی انتہائی بلند ہے۔ انہوں نے شنگھائی سپر فیکٹری کو ایک گراں قدر اثاثہ قرار دیا۔چین کے مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کی تعریف کرتے ہوئے مسک نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ انتہائی شاندار ہیں اور فی یونٹ کمپیوٹنگ پاور کے اعتبار سے ان کی کارکردگی تقریباً عالمی سطح پر سرفہرست ہے۔ ان کے خیال میں چین کمپیوٹنگ پاور کے مسئلے کو توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے حل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سے تین سال کے عرصے میں چین لیتھوگرافی ٹیکنالوجی اور چپ مینوفیکچرنگ کے ذریعے کمپیوٹنگ پاور کے خلا کو پُر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔انسان نما روبوٹس کے حوالے سے مسک نے کہا کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں چین اور امریکہ مل کر عالمی سطح پر رہنمائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مستقبل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دور میں ہر فرد اپنا ذاتی روبوٹ رکھ سکے گا۔ مستقبل کی دنیا میں ایک شخص سینکڑوں، ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار جسمانی روبوٹس اور ڈیجیٹل ایجنٹس کو کنٹرول کر سکے گا۔