ابوظہبی (نیوز ڈیسک): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے غیر اعلانیہ دورے اور ابوظہبی میں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو نے اتوار کو ابوظہبی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اماراتی صدر سے ملاقات کی۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نجی طیارے کے ذریعے ابوظہبی پہنچے اور مختصر قیام کے بعد واپس اسرائیل روانہ ہوگئے۔ تاہم ملاقات میں زیر بحث آنے والے معاملات یا دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کی سکیورٹی صورتحال بھی خاصی حساس ہے۔ دونوں ممالک نے 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور اس کے بعد مختلف شعبوں میں رابطے برقرار رہے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک اور معاملے کے باعث بھی توجہ کا مرکز ہیں۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے رواں ماہ دعویٰ کیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو حماس کی جانب سے بڑے آپریشن کی مبینہ تیاری سے آگاہ کیا تھا۔ اخبار کے مطابق یہ مبینہ انتباہ اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں یا فوج تک نہیں پہنچا۔ نیتن یاہو نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے اس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا۔
رائٹرز کے مطابق اماراتی حکام ماضی میں واضح کرچکے ہیں کہ سکیورٹی سے متعلق معاملات متعلقہ اداروں کے ذریعے زیر بحث آتے ہیں، قومی رہنماؤں کی سطح پر نہیں۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے ’’کھلے اور براہ راست رابطوں‘‘ کو برقرار رکھنے کی بات کی ہے۔
رواں سال مئی میں بھی نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورۂ امارات اور شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی خبر سامنے آئی تھی، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس وقت اس ملاقات کی تردید کردی تھی۔ بعد ازاں ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ دونوں رہنماؤں کی مارچ میں العین میں ملاقات ہوئی تھی۔
حالیہ ملاقات کی مکمل تفصیلات اور اس کے ایجنڈے سے متعلق دونوں حکومتوں کی جانب سے کسی باضابطہ اعلان کا انتظار ہے۔
پی این پی