پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی خاندان چین کے مشرقی صوبے میں روایتی چینی طب کے راز جاننے کا خواہاں

ہیفے (شِنہوا) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے محمد کاشف، ماریہ عرفات اور ان کی بھتیجی نعیمہ خان نے روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) کے راز جاننے کے لئے ہزاروں میل کا سفر کرکے چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کا رخ کیا۔
ایک سال قبل کاشف اور ماریہ کے بڑے بھائی سے متاثر ہو کر، جو صوبہ آنہوئی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے، ان نوجوانوں میں قدیم روایتی چینی طب میں گہری دلچسپی پیدا ہوئی۔ کاشف نے کہا کہ’’میرے بھائی نے ہمیں چین کے تعلیمی ماحول اور شعبہ ادویہ سازی میں دستیاب مواقع کے بارے میں بتایا اور روایتی چینی طب کے تصورات کی تفصیل سے وضاحت کی، جس سے ہم نے یہاں آنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔‘‘
نعیمہ اور ماریہ کو مشرقی طب کے منفرد طریقہ علاج، جیسے آکوپنکچر (سوئیوں کے ذریعے علاج) اور کپنگ ( جسم پر مخصوص پیالے لگا کر علاج) نے خاص طور پر متاثر کیا۔ نعیمہ نے کہا کہ ’’ہم نے ان طریقہ علاج کے بارے میں انٹرنیٹ پر بہت سی معلومات اور ویڈیوز تلاش کیں اور ہمیں یہ بہت دلچسپ لگے۔ چین روایتی چینی طب کا مرکز ہے۔ میں چینی ماہرین سے براہ راست علاج کے روایتی طریقے سیکھنا اور صحت کی دیکھ بھال کے ایک نئے طریقہ کار کو سمجھنا چاہتی ہوں۔‘‘
گزشتہ سال اکتوبر میں ان تینوں نے آنہوئی یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن میں فارمیسی کے شعبے میں بین الاقوامی طلبہ کی حیثیت سے داخلے کے لئے کامیابی سے درخواستیں دیں اور روایتی چینی طب کی تعلیم کے 4سالہ پروگرام کا آغاز کیا۔
روایتی چینی طب کے بنیادی نظریات اور تشخیص کی تکنیکیں سیکھنے، ادویاتی اجزاء کی شناخت کرنے اور چینی ادویات کی تیاری کے مراحل کا مشاہدہ کرنے کے دوران تینوں طلبہ نے اس طریقہ علاج کو زیادہ گہرائی اور منظم انداز میں سمجھنا شروع کیا۔
روایتی چینی طب سیکھنا آسان نہیں تھا۔ ثقافتی اختلافات، زبان کی رکاوٹیں اور اس طب کے غیر مانوس تصورات ان کی تعلیم میں مشکلات کا باعث بنے۔نعیمہ نے بتایا کہ ’’مثال کے طور پر آکوپنکچر کو ہی لے لیں۔ انسانی جسم میں سوئی لگانے کے 300 سے زیادہ مخصوص مقامات ہوتے ہیں۔ ہمیں ان میں سے عام طور پر استعمال ہونے والے 100 سے زیادہ مقامات کو اچھی طرح یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جگہ اور افادیت بھی سمجھنی ہوتی ہے۔ ان مقامات کی جگہیں یاد کرنے میں ہی ہمیں تقریباً ایک سال لگ گیا۔‘‘
ابتدا میں مشکلات کے باوجود مسلسل مشق اور اساتذہ سے بار بار رہنمائی لینے کے باعث تینوں طلبہ نے رفتہ رفتہ نصاب کے ساتھ چلنا شروع کیا۔ اس طرح انہیں ہزاروں سال سے نسل در نسل منتقل ہونے والے اس مکمل نظام طب کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا، جس کی وسعت مختصر آن لائن ویڈیوز میں دکھائی جانے والی معلومات سے کہیں زیادہ ہے۔
ماریہ نے کہا کہ ’’روایتی چینی طب کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس میں توازن برقرار رکھنے کا ایک منفرد تصور پایا جاتا ہے۔ آکوپنکچر، کپنگ اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات جسم کے افعال کو منظم کرنے اور اس کا توازن بحال کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔‘‘
کلاس روم سے باہر بھی تینوں طلبہ نے عملی طور پر روایتی چینی طب کی منفرد خصوصیات کا تجربہ کیا۔ رواں موسم گرما میں کاشف نے ایک ہسپتال جا کر آکوپنکچر اور کپنگ کے ذریعے علاج کا براہ راست تجربہ کیا۔ کاشف نے بتایا کہ ’’علاج کے بعد میرا پورا جسم پرسکون اور ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا۔ اس رات مجھے اچھی نیند آئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس عملی تجربے سے انہیں روایتی چینی طب کی افادیت کو حقیقی طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔
ان کے خیال میں روایتی چینی طب انسانی جسم کو ایک مربوط اور نامیاتی اکائی کے طور پر دیکھتی ہے، جس کے تمام حصے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ صحت کے بارے میں یہ جامع نقطہ نظر پاکستان کے روایتی طریقہ علاج طب یونانی سے بھی خاصی مماثلت رکھتا ہے۔ دونوں نظاموں میں قدرتی جڑی بوٹیوں کے استعمال، انسانی صحت کو مجموعی طور پر دیکھنے اور صحت پر خوراک اور روزمرہ معمولات کے اثرات کو اہمیت دینے پر زور دیا جاتا ہے۔
نعیمہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں طویل عرصے سے علاج کے لئے جڑی بوٹیوں کے استعمال کی روایت موجود ہے، تاہم روایتی چینی طب ابھی تک وہاں وسیع پیمانے پر متعارف نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق اس کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹیں عوام میں اس حوالے سے ناکافی آگاہی، تربیت یافتہ ماہرین تیار کرنے کے لئے معیاری نظام کی کمی اور سائنسی تحقیق کے لئے محدود معاونت ہیں۔
نعیمہ نے کہا کہ ’’اگرچہ اس طریقہ علاج کو فروغ دینا آسان نہیں، لیکن دونوں روایتی نظام طب کی بنیاد میں کئی مشترکہ اصول موجود ہیں، جو مستقبل میں ہمارے درمیان تبادلے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں۔‘‘
تعلیم کے علاوہ آنہوئی کے دارالحکومت ہیفے میں زندگی نے بھی ان غیر ملکی طلبہ کو اپنائیت کا احساس دلایا۔ماریہ نے کہا کہ ’’یہ شہر پرسکون، جدید، کشادہ ذہن اور دوستانہ ماحول کا حامل ہے۔ یہاں کے لوگ بہت خوش اخلاق ہیں اور ہمیں چینی ثقافت کو قریب سے جاننے کا موقع بھی ملتا ہے۔‘‘
مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے تینوں نے فارمیسی میں مزید تعلیم حاصل کرکے ماسٹرز کی ڈگری لینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ روایتی چینی طب کو پاکستان لے جانا چاہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے آگاہ ہو سکیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
نعیمہ نے کہا کہ ’’روایتی چینی طب صحت کے شعبے میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علمی اور ثقافتی تبادلوں کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں مزید عملی تجربہ حاصل کروں، روایتی چینی طب کو پاکستان میں متعارف کراؤں اور دونوں ممالک کے روایتی نظام طب کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے پل کا کردار ادا کروں۔‘‘



