چین میں خزاں کی سیاحت

اعتصام الحق
چین میں خزاں کا موسم صرف درختوں کے پتے زرد ہونے اور موسم ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرتی مناظر، تاریخی مقامات اور مقامی ثقافت سے لطف اندوز ہونے کا ایک خاص وقت بھی ہے۔ ستمبر سے نومبر تک ملک کے مختلف علاقوں میں درختوں کے رنگ بدلتے ہیں، پہاڑ سرخ اور سنہری رنگوں میں ڈھل جاتے ہیں، جھیلوں کے کنارے دلکش منظر پیش کرتے ہیں اور قدیم شہروں کی گلیاں سیاحوں سے آباد ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خزاں کی سیاحت چین میں مقامی سیاحت کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔
چین کی وزارتِ ثقافت و سیاحت کے مطابق، 2025 میں چینی شہریوں نے ملک میں مجموعی طور پر 6.522 ارب سیاحتی سفر کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.2 فیصد زیادہ تھے۔ اس دوران ملکی سیاحت پر اخراجات 6.3 ٹریلین یوآن تک پہنچے ، جس میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیاحت چینی معیشت اور عوام کی روزمرہ زندگی میں اہم مقام رکھتی ہے۔
خزاں کے موسم میں چین کی سیاحت کی خاص بات یہ ہے کہ ہر علاقے کا اپنا رنگ اور اپنی کشش ہے۔ شمالی چین کے سنہری جنگلات سے لے کر سنکیانگ کی وسیع جھیلوں، اندرونی منگولیا کے گھاس کے میدانوں اور جنوب میں شنگھائی کے شہری مناظر تک، سیاحوں کے لیے مختلف تجربات موجود ہیں۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں خزاں کی سیاحت کے لیے شیانگ شان، جسے انگریزی میں فریگرنٹ ہلز کہا جاتا ہے، خاص شہرت رکھتا ہے۔ یہاں پہاڑی ڈھلوانوں پر سرخ اور زرد پتے ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ اکتوبر کے آخری ہفتے سے نومبر کے آغاز تک عموماً رنگوں کی رونق اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس پارک کا رقبہ 188 ہیکٹر ہے اور یہاں 5,800 سے زیادہ قدیم اور مشہور درخت موجود ہیں۔
بادالنگ کے مقام پر عظیم دیوارِ چین کا نظارہ بھی خزاں میں منفرد ہو جاتا ہے۔ پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی دیوار اور اس کے اطراف سرخ پتوں والے درخت سیاحوں اور فوٹوگرافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ سمر پیلس، جِنگ شان پارک اور ٹیمپل آف ہیون بھی ان لوگوں کے لیے موزوں مقامات ہیں جو قدرتی حسن کے ساتھ چینی تاریخ اور روایتی طرزِ تعمیر دیکھنا چاہتے ہیں۔
اندرونی منگولیا میں خزاں کا رنگ چین کے دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔ ایجینا کے علاقے میں پائے جانے والے صحرائی چنار، جنہیں پاپولس یوفراٹیکا کہا جاتا ہے، خزاں میں سنہری رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ ریتیلے میدانوں، دریا کے کناروں اور زرد درختوں کا امتزاج اس علاقے کو خاص پہچان دیتا ہے۔ہولون بوئیر کے وسیع گھاس کے میدان بھی خزاں میں اپنا الگ حسن رکھتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ گھاس کے رنگ بدلتے ہیں اور کھلے میدانوں میں گھوڑوں اور مقامی چرواہوں کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں آنے والے سیاح قدرتی مناظر کے ساتھ منگول ثقافت، مقامی کھانوں اور روایتی طرزِ زندگی سے بھی واقف ہو سکتے ہیں۔
پھر چین کے شمال مغربی خطے سنکیانگ میں خزاں کی سیاحت کے لیے کاناس جھیل اور ہی مو گاؤں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کاناس جھیل کے نیلگوں پانی، پہاڑوں پر پھیلے جنگلات اور زرد پتوں کا امتزاج دلکش منظر پیدا کرتا ہے۔ ہی مو گاؤں اپنے لکڑی کے گھروں، پہاڑی پس منظر اور صبح کے وقت وادیوں میں چھائی دھند کے باعث مشہور ہے۔سائی رام جھیل بھی قدرتی حسن کے شائقین کے لیے ایک قابلِ ذکر مقام ہے۔ یہاں جھیل کے نیلے پانی کے ساتھ پہاڑوں اور کھلے میدانوں کا منظر خزاں میں مزید خوبصورت محسوس ہوتا ہے۔ تاہم سنکیانگ کے بعض بلند اور شمالی علاقوں میں سردی جلد شروع ہو جاتی ہے، اس لیے سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت موسم اور سڑکوں کی صورتِ حال دیکھنا ضروری ہے۔
شنگھائی میں خزاں کا لطف پہاڑی علاقوں سے مختلف ہے۔ یہاں جدید عمارتوں، تاریخی گلیوں، باغات اور شہری پارکوں میں موسم کے رنگ نظر آتے ہیں۔ سینچری پارک میں رنگ برنگے پودے، پھول اور درخت شہری زندگی سے مختصر وقفہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ یو یوان گارڈن میں روایتی چینی طرزِ تعمیر اور سنہری پتوں کا امتزاج دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ شہر کے سرکاری سیاحتی ذرائع بھی ان مقامات کو خزاں کے اہم دلکشی والے علاقوں میں شمار کرتے ہیں۔
چین میں خزاں کی سیاحت صرف ان علاقوں تک محدود نہیں۔ سیچوان میں جیوژائی گو اپنی رنگین جھیلوں اور جنگلات کے لیے مشہور ہے۔ آنہوئی میں ہوانگ شان کے پہاڑ بادلوں، چٹانوں اور رنگ بدلتے درختوں کے باعث دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ ہانگژو کی ویسٹ لیک کے کنارے چہل قدمی اور قدیم باغات کی سیر بھی خزاں میں خاص لطف دیتی ہے۔ ژانگ جیا جیا کے بلند پہاڑ اور جنگلات ان سیاحوں کے لیے موزوں ہیں جو فطرت کے قریب وقت گزارنا چاہتے ہیں۔
چین کی وزارتِ ثقافت و سیاحت کے ڈیٹا سینٹر کے تخمینے کے مطابق، رواں سال سات روزہ قومی تعطیلات کے دوران ملک بھر میں اندرونِ ملک سیاحوں کے سفری ٹرپس کی تعداد 82 کروڑ 60 لاکھ رہی، جبکہ اندرونِ ملک سیاحت پر مجموعی اخراجات 738.375 ارب یوآن تک پہنچے ۔ یومیہ اوسط کے حساب سے 2025 کے مقابلے میں سیاحوں کے سفری ٹرپس میں 6.3 فیصد جبکہ اخراجات میں 4.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔قومی دن کے موقع پر منائے جانے والے ثقافت و سیاحت کے مہینے کے دوران، مختلف علاقوں نے سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے متنوع ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا، جبکہ سیاحتی و ثقافتی کھپت کو فروغ دینے کے لیے 31 کروڑ یوآن سے زائد کی سبسڈی بھی جاری کی گئی، جس سے کھپت کی محرک قوت کو تقویت ملی۔
چین میں خزاں کی سیاحت کی اصل کشش اس کے تنوع میں ہے۔ کہیں سرخ پتے تاریخی دیواروں کو خوبصورت بناتے ہیں، کہیں سنہری جنگلات جھیلوں کے کنارے پھیلے ہوتے ہیں اور کہیں جدید شہر اپنے باغات کے ذریعے موسم کا استقبال کرتے ہیں۔ یہی تنوع چین کو خزاں کے موسم میں ایک ایسا سیاحتی ملک بناتا ہے جہاں قدرت، تاریخ اور روزمرہ زندگی ایک ہی سفر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔



