جاپان میں عسکریت پسندی کا دوبارہ سر اٹھانا ایک بند راستہ ہے، چینی وزارت خارجہ

بیجنگ :جاپان کی سانائے تاکائیچی انتظامیہ کی جانب سے آئینی ترامیم کو آگے بڑھانے کے اعلان کے بعد، اسے جاپانی معاشرے کے تمام شعبوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا ہے، یہاں تک کہ کئی دہائیوں بعد سب سے بڑے جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے بھی سامنے آئے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ تاریخ ایک آئینہ ہے۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں جاپانی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ان کا ملک بتدریج عسکریت پسندی کی جانب بڑھتا گیا، جنگی مشین میں تبدیل ہوا، اور جنگ کے تباہ کن نتائج بھگتے۔ وہ جاپانی حکومت کے دوبارہ کبھی جنگ نہ کرنے کے وعدے کی اہمیت کو سب سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ اب، سانائے تاکائیچی انتظامیہ امن پسندی کو ترک کرکے "پرامن قوم” کے اس اتفاق رائے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، جس پر جاپانی عوام کئی نسلوں سے قائم ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جاپان میں کئی دہائیوں بعد سب سے بڑے جنگ مخالف مظاہرے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس حوالےسے باشعور ہو رہے ہیں کہ عسکریت پسندی کی طرف لوٹنا ایک بند راستہ ہے۔ دنیا کے تمام امن پسند ممالک اورخود جاپانی عوام کو جاپان کی "نئی قسم کی عسکریت پسندی” کے سر اٹھانے اور اسےسنگین خطرہ بننے سے روکنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ*********************

Comments (0)
Add Comment