بیجنگ :چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ ٹوکیو ٹرائل کے آغاز اور نیورمبرگ ٹرائل کے اختتام کو 80 برس مکمل ہونے پر جاپان اور جرمنی نے جنگِ عظیم دوم کی تاریخ اور جنگی جرائم کے حوالے سے بالکل مختلف راستے اختیار کیے ہیں۔منگل کے روز گو جیا کھون نے کہا کہ بعض ممالک نے انصاف پر مبنی عدالتی فیصلوں کا سنجیدگی سے سامنا کیا، مخلصانہ انداز میں ماضی پر غور کیا، کھلے عام معذرت کی، فاشزم کا مکمل احتساب کیا اور وسیع پیمانے پر اینٹی نازی تعلیم کو فروغ دیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے قانونی نظام تشکیل دیے گئے جن میں نازی نظریات کی تشہیر اور تاریخی جرائم سے انکار پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، اور انہیں عالمی احترام حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس جاپان کی حکومت نے نوآبادیاتی جارحیت پر معافی اور اعترافِ ذمہ داری سے متعلق "مرایاما بیان” اور "کونو بیان” جیسے تاریخی اعلانات کو دانستہ کمزور اور نظر انداز کرنے کی کوشش کی، جبکہ دائیں بازو کی قوتوں کو جنگی جرائم کی تعریف و توجیہہ کا موقع دیا گیا۔جاپانی نصابی کتب میں بھی جارحیت کی تاریخ کو مکمل اور معروضی انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔ ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنے اور جرائم پر پردہ ڈالنے سے نہ اعتماد حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی عالمی برادری کی معافی۔ جاپان کو چاہیے کہ وہ ماضی کے جرائم پر گہرا غور کرے، عسکریت پسندی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرے اور حقیقی معنوں میں امن کے راستے پر چلے۔