بیجنگ :چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ ٹوکیو ٹرائل کے آغاز اور نیورمبرگ ٹرائل کے اختتام کو 80 برس مکمل ہونے پر جاپان اور جرمنی نے جنگِ عظیم دوم کی تاریخ اور جنگی جرائم کے حوالے سے بالکل مختلف راستے اختیار کیے ہیں۔منگل کے روز گو جیا کھون نے کہا کہ بعض ممالک نے انصاف پر مبنی عدالتی فیصلوں کا سنجیدگی سے سامنا کیا، مخلصانہ انداز میں ماضی پر غور کیا، کھلے عام معذرت کی، فاشزم کا مکمل احتساب کیا اور وسیع پیمانے پر اینٹی نازی تعلیم کو فروغ دیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے قانونی نظام تشکیل دیے گئے جن میں نازی نظریات کی تشہیر اور تاریخی جرائم سے انکار پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، اور انہیں عالمی احترام حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس جاپان کی حکومت نے نوآبادیاتی جارحیت پر معافی اور اعترافِ ذمہ داری سے متعلق “مرایاما بیان” اور “کونو بیان” جیسے تاریخی اعلانات کو دانستہ کمزور اور نظر انداز کرنے کی کوشش کی، جبکہ دائیں بازو کی قوتوں کو جنگی جرائم کی تعریف و توجیہہ کا موقع دیا گیا۔جاپانی نصابی کتب میں بھی جارحیت کی تاریخ کو مکمل اور معروضی انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔ ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنے اور جرائم پر پردہ ڈالنے سے نہ اعتماد حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی عالمی برادری کی معافی۔ جاپان کو چاہیے کہ وہ ماضی کے جرائم پر گہرا غور کرے، عسکریت پسندی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرے اور حقیقی معنوں میں امن کے راستے پر چلے۔
Trending
- چائنا میڈیا گروپ اور ایکواڈور کے ایوان صدر کے جنرل انفارمیشن آفس کے درمیان تعاون کی دستاویز پر دستخط
- وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ
- کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے: 5 زخمی ڈاکوؤں سمیت 6 ملزمان گرفتار، بھاری مالِ مسروقہ برآمد
- چین اور ایکواڈور کو سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنا چاہیے، چینی صدر
- مکاؤ کے نئے پانچ سالہ منصوبے سے اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے دور کا آغاز
- عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمتیں برقرار
- چانگ چھون ماڈرن میٹروپولیٹن ایریا ” فلم پلس کھپت سیزن” کا آغاز
- چین شہری اور دیہی علاقوں پر محیط تجارتی نیٹ ورک قائم کرے گا
- پشاور میں فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، ڈرائیور زخمی
- گال ٹیسٹ: پڈیکل کی شاندار سنچری، بھارت نے پہلی اننگز میں 462 رنز بنالیے