بیجنگ :چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ ٹوکیو ٹرائل کے آغاز اور نیورمبرگ ٹرائل کے اختتام کو 80 برس مکمل ہونے پر جاپان اور جرمنی نے جنگِ عظیم دوم کی تاریخ اور جنگی جرائم کے حوالے سے بالکل مختلف راستے اختیار کیے ہیں۔منگل کے روز گو جیا کھون نے کہا کہ بعض ممالک نے انصاف پر مبنی عدالتی فیصلوں کا سنجیدگی سے سامنا کیا، مخلصانہ انداز میں ماضی پر غور کیا، کھلے عام معذرت کی، فاشزم کا مکمل احتساب کیا اور وسیع پیمانے پر اینٹی نازی تعلیم کو فروغ دیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے قانونی نظام تشکیل دیے گئے جن میں نازی نظریات کی تشہیر اور تاریخی جرائم سے انکار پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، اور انہیں عالمی احترام حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس جاپان کی حکومت نے نوآبادیاتی جارحیت پر معافی اور اعترافِ ذمہ داری سے متعلق "مرایاما بیان” اور "کونو بیان” جیسے تاریخی اعلانات کو دانستہ کمزور اور نظر انداز کرنے کی کوشش کی، جبکہ دائیں بازو کی قوتوں کو جنگی جرائم کی تعریف و توجیہہ کا موقع دیا گیا۔جاپانی نصابی کتب میں بھی جارحیت کی تاریخ کو مکمل اور معروضی انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔ ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنے اور جرائم پر پردہ ڈالنے سے نہ اعتماد حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی عالمی برادری کی معافی۔ جاپان کو چاہیے کہ وہ ماضی کے جرائم پر گہرا غور کرے، عسکریت پسندی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرے اور حقیقی معنوں میں امن کے راستے پر چلے۔
Trending
- وفاقی شرعی عدالت کا خودکشی قانون سے متعلق بڑا فیصلہ جاری
- اپیک اعلیٰ سطح حکام کے دوسرے اجلاس کا انعقاد
- پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال، مہرین ملک آدم عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے چین پہنچ گئیں
- لاہور؛ گھریلو ناچاقی پر شوہر نے تشدد کرکے بیوی کو قتل کر دیا
- جاپان کو عملی اقدامات کے ذریعے عسکریت پسندی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی، چینی وزارتِ خارجہ
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور قطری وزیر مملکت کے درمیان علاقائی صورتحال پر گفتگو
- کراچی میں نیا تعمیراتی شاہکار؛ پاکستان کی بلند ترین عمارت ’برجِ قائد‘ کا معاہدہ طے
- پاکستان کی امارات میں جوہری پلانٹ پر حملے کی شدید مذمت
- وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال
- 23ویں انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ انڈسٹریل فیئر ایشیا 2026 کا کامیابی کے ساتھ اختتام