بیجنگ: چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیئن سے معمول کی پریس کانفرنس میں جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کی جانب سے 15 اگست کو جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ قومی تقریب سے خطاب سے متعلق پوچھا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ سانائے تاکائچی نے اپنے خطاب میں “تاریخ پر غور ” اور “تاریخ سے سبق” جیسے اہم نکات سے گریز کیا اور جاپان کی جارحیت کی ذمہ داری کو مبہم بنانے کی کوشش کی۔اس سے ایک بار پھر تاکائچی حکومت کی جانب سے جارحیت کی تاریخ کو چھپانے، مسخ کرنے اور حقائق کو تبدیل کرنے کے خطرناک عزائم بے نقاب ہوئے ہیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت اور وسیع مخالفت سامنے آئی ہے۔
دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کے دن سانائے تاکائچی نے یاسوکونی شرائن کے لیے نذرانہ پیش کیا ، وزیر دفاع نے بھی وہاں حاضری دی، جس سے ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری میں جاپان کی سمت کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
جاپان کے اندر باشعور حلقوں نے نشاندہی کی ہے کہ جو ملک اپنی تاریخ پر نظرثانی نہیں کرتا، وہ اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ وزیرِ دفاع کا اقدام جارحانہ جنگ کی حمایت کے مترادف ہے۔