بیجنگ: چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیئن سے معمول کی پریس کانفرنس میں جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کی جانب سے 15 اگست کو جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ قومی تقریب سے خطاب سے متعلق پوچھا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ سانائے تاکائچی نے اپنے خطاب میں “تاریخ پر غور ” اور “تاریخ سے سبق” جیسے اہم نکات سے گریز کیا اور جاپان کی جارحیت کی ذمہ داری کو مبہم بنانے کی کوشش کی۔اس سے ایک بار پھر تاکائچی حکومت کی جانب سے جارحیت کی تاریخ کو چھپانے، مسخ کرنے اور حقائق کو تبدیل کرنے کے خطرناک عزائم بے نقاب ہوئے ہیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت اور وسیع مخالفت سامنے آئی ہے۔
دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کے دن سانائے تاکائچی نے یاسوکونی شرائن کے لیے نذرانہ پیش کیا ، وزیر دفاع نے بھی وہاں حاضری دی، جس سے ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری میں جاپان کی سمت کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
جاپان کے اندر باشعور حلقوں نے نشاندہی کی ہے کہ جو ملک اپنی تاریخ پر نظرثانی نہیں کرتا، وہ اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ وزیرِ دفاع کا اقدام جارحانہ جنگ کی حمایت کے مترادف ہے۔
Trending
- چینی صدر کا انڈونیشیا میں زلزلے پر انڈو نیشین ہم منصب سے اظہارِ تعزیت
- اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، سپر ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ قانونی قرار
- ہاکی ورلڈ کپ، 8 سال بعد ایونٹ میں واپسی کرنے والی پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کے ہاتھوں 4-1 سے شکست
- جاپان تاریخ پر گہرا غور اور تاریخ سے سبق سیکھے ، چینی وزارت خارجہ
- جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام برقرار رکھنا تمام فریقوں کے مشترکہ مفاد میں ہے،چینی وزارتِ خارجہ
- ملک میں سونے کی قیمت پھر بڑھ گئی
- P(doom) کی بحث: چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ادراکی فرق، مشترکہ اتفاقِ رائے، اور عالمی حکمرانی کا راستہ
- دوسرے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز 22 اگست سے بیجنگ میں شروع ہوں گے
- چین نے ایس ای او سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا
- چلی کے وزیرِ خارجہ چین کا سرکاری دورہ کریں گے، چینی وزارت خارجہ
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔