چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کو بنی نوع انسان کی خوشحالی کے لیے استعمال کرنے کی اپیل

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے ” مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی ” پر سلامتی کونسل کے اوپن سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اتحادو تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے ترقی اور سلامتی کو ایک جیسی اہمیت دے کر مصنوعی ذہانت کی ترقی کو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کی سمت میں استعمال کیا جائے اور دنیا کے امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کے لیے مدد فراہم کی جائے۔
چینی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت بنی نوع انسان کی مشترکہ دولت ہے۔ ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجی کے فرق سے ترقیاتی فرق کے مزید بڑھنے کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حقیقی کثیرالجہتی پر عمل پیرا ہونا چاہیے، مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرنی چاہیے، اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور اظہار رائے کو بڑھانا چاہیے۔فوچھونگ نے کہا کہ مختلف ممالک کی مصنوعی ذہانت کی ترقیاتی حکمت عملیوں، حکمرانی کے قواعد اور تکنیکی معیارات کے درمیان ہم آہنگی اور مطابقت کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ جلد از جلد ایک وسیع اتفاق رائے پر مبنی عالمی حکمرانی کا فریم ورک تشکیل دیا جا سکے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک ادارہ جاتی ڈھال فراہم کی جا سکے۔
چینی مندوب نے مزید کہا کہ چین مصنوعی ذہانت کی احتراعی ترقی پر عمل پیرا ہے اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے لیے مثبت خدمات سرانجام دیتا رہے گا ۔چین کی اپیل پر مصنوعی ذہانت کی عالمی تعاون تنظیم شنگھائی میں قائم ہوئی، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پہلی عالمی بین الاحکومتی تنظیم ہے۔ چین اس کھلے پیلٹ فارم میں شرکت کے لیے زیادہ سے زیادہ ممالک کاخیرمقدم کرتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ مختلف ممالک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کے ایک منصفانہ اور معقول عالمی نظامِ حکمرانی کی تعمیر کو فروغ دیا جائے گا اور مل کر بنی نوع انسان کے ایک خوب صورت ہم نصیب معاشرے کو تخلیق کیا جائے گا ۔

Comments (0)
Add Comment