اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکہ سے فلسطینی ریاست کے قیام پر رضامندی کا عہد نہیں کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس دن ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تردید کی گئی کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر بائیڈن سے وعدہ کیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان موجود ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن کے ساتھ کال کے دوران نیتن یاہو نے اپنے مستقل موقف کا اعادہ کیا کہ فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے خاتمے کے بعد اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر جامع سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے تاکہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کو مزید کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ۔
امریکی حکومت نے 19 تاریخ کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بائیڈن کی نیتن یاہو کے ساتھ اسی روز فون پر بات ہوئی، اور دونوں فریقوں نے اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے "دو ریاستی حل” کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا۔ عالمی برادری کا عمومی خیال یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کا واحد راستہ "دو ریاستی حل” کے نفاذ میں مضمر ہے، یعنیٰ 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد مملکت فلسطین کا قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، مکمل خودمختاری کا حامل ہو ،تاکہ بنیادی طور پر اسرائیل اور فلسطین کے لیےپرامن بقائے باہمی کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔
Trending
- پی ایچ ایف کا سینئر، جونیئر اور انڈر 18 ٹیموں کیلیے نئے مینجمنٹ پینلز کا اعلان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ
- ارجنٹینا کے لیجنڈ میراڈونا کی موت کا معمہ، کیس کی دوبارہ سماعت کا فیصلہ
- سیکیورٹی اداروں کی کارروائی؛ بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے والے 3 افراد گرفتار
- قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کی کینسر سے متاثر بچوں سے ملاقات
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا