اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکہ سے فلسطینی ریاست کے قیام پر رضامندی کا عہد نہیں کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس دن ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تردید کی گئی کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر بائیڈن سے وعدہ کیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان موجود ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن کے ساتھ کال کے دوران نیتن یاہو نے اپنے مستقل موقف کا اعادہ کیا کہ فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے خاتمے کے بعد اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر جامع سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے تاکہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کو مزید کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ۔
امریکی حکومت نے 19 تاریخ کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بائیڈن کی نیتن یاہو کے ساتھ اسی روز فون پر بات ہوئی، اور دونوں فریقوں نے اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے “دو ریاستی حل” کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا۔ عالمی برادری کا عمومی خیال یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کا واحد راستہ “دو ریاستی حل” کے نفاذ میں مضمر ہے، یعنیٰ 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد مملکت فلسطین کا قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، مکمل خودمختاری کا حامل ہو ،تاکہ بنیادی طور پر اسرائیل اور فلسطین کے لیےپرامن بقائے باہمی کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔
Trending
- پی ٹی اے کی ای سم کے اجرا، روایتی سیم کی تبدیلی کی فیس 1500 تک مقرر
- مفتی تقی عثمانی کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم
- Shoaib Muhammad on Pakistan – ایکسپریس اردو
- Nimra Khan and husband social media posts spark fresh debate amid divorce rumors
- پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان، ڈیزل پر لیوی مزید بڑھا دی گئی
- چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی والدہ انتقال کر گئیں
- جنوبی کوریا نے پاکستان انڈر 21 ہاکی ٹیم کو 2-6 سے شکست دیدی
- ٹرمپ نے غیر امریکیوں کے بچوں کی پیدائش پر امریکی شہریت کے قانون کو محدود کردیا
- پیٹرول اور ڈیزل مسلسل دوسرے روز سستا کردیا گیا
- طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات