راولپنڈی(نیوزڈیسک)سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر مقدمے میں 10-10سال قید بامشقت سزا سنادی گئی ہے۔
منگل کو اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات محمد ذوالقرنین نے سزا سنائی۔ سائفر کیس میں دونوں ملزمان کو قید بامشقت سنائی گئی ہے۔
قید بامشقت سزا میں مجرم کو کیا کرنا پڑتا ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق قید بامشقت سزا میں جیل کے اندر مختلف نوعیت کے کام کی ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں اور اس کا باقائدہ معاوضہ بھی ملتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق جیل میں مختلف فیکٹریاں بھی کام کر رہی ہوتی ہیں، کسی فیکٹری میں بھی کام پر لگایا جاسکتا ہے، تعلیم دینے کی ڈیوٹی بھی لگائی جاتی ہے، مسجد کی صفائی، کھیتی باڑی کی ذمہ داریاں بھی لگائی جاتی ہیں جبکہ کچھ کام سخت نوعیت کی بھی ہوتے ہیں۔
قید بامشقت قیدیوں کو کھانے بنانے میں مدد، پودوں کی دیکھ بھال، تراش خراش کرنا جیسے کام بھی کروائے جاتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ سپرٹینڈنٹ جیل کا اختیار ہے کہ وہ کس قیدی کو کیا کام دیں جبکہ کچھ مشقت ایسی بھی ہے جس سے سزا میں بھی کمی ہوتی ہے جیسے تعلیم یا قرآن پڑھانا۔
Trending
- shopkeepers fixed tax – ایکسپریس اردو
- درآمدی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان، ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
- بجٹ عوام دوست نہیں، حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا تحفظات کا اظہار
- بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا خاتمہ تاریخی ریلیف ہے: وفاقی وزیرِ بحری امور
- وفاقی بجٹ: ٹرانسپورٹ شعبے سے متعلق ٹیکس اور ڈیوٹی میں تبدیلیوں کی تجاویز پیش
- فیفا ورلڈکپ: میکیسکن ٹیم کے گول پر اسٹیڈیم میں موجود صدر کا جشن، ویڈیو وائرل
- حکومتی بجٹ عوام کیلیے غیرسود مند، کراچی کو نظر انداز کیا گیا، چیمبر آف کامرس
- شاہی خاندان کی بہو شوہر کی محبوبہ کی فائرنگ سے زخمی
- ایران اور امریکا کے درمیان حتمی مسودے پر اتفاق ہوچکا، وزیراعظم
- ابھیشیک شرما اور ماہرہ شرما کے درمیان رومانوی تعلقات کی افواہیں گرم