حال ہی میں جب ایک چینی طالب علم امریکہ کے سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو اسے امریکی سرحدی قانون نافذ کرنے والے حکام پوچھ گچھ کے لیےچھوٹے بلیک روم میں لے گئے، 20 گھنٹے سے زائد عرصے تک حراست میں رکھا گیا اور بالآخر اس کا ویزا منسوخ کر دیا گیا اور وطن واپس بھیج دیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ قانون کے نفاذ کے عام دائرے سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے عمل نے چین اور امریکہ کے درمیان معمول کے افرادی تبادلوں میں سنگین مداخلت کی ہے، اور چینی اور امریکی سربراہان مملکت کے اتفاق رائے کی بھی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔چین اس پرسنگین اعتراض اور مخالفت کا اظہار کرتا ہے۔
ماؤ نینگ نے زور دے کر کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ نام نہاد "قومی سلامتی” کی آڑ میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے چینی طالب علموں کو ہراساں کرنا بند کرے، دوطرفہ تعلقات میں رائے عامہ کے ماحول کو زہر آلود کرنا بند کرے، دونوں عوام کے درمیان دوستانہ تبادلوں میں رکاوٹ ڈالنا بند کرے۔ماؤ نینگ نے کہا کہ چین چینی شہریوں کے جائز اور قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گا۔
Trending
- اقوامِ متحدہ ہیڈکوارٹرز نیویارک میں چینی زبان کے دن کی مناسبت سے ثقافتی تقریب کا انعقاد
- چین ، پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا معترف
- اسپین کے وزیر اعظم کا دورہ چین
- عوام کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے پر چینی صدر کے مضمون کی اشاعت
- چین-روس تعلقات کا استحکام خاص طور پر قیمتی ہے، چینی صدر
- چینی صدر کی تولام کو ویتنام کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد
- پاکستان میں سونے کی اونچی اڑان جاری، آج مزید مہنگا
- بشیراللہ خان انقلابی کی حریت رہنما الطاف بٹ کی رہائش گاہ آمد، والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی
- سابق صدر و اہلخانہ کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا کیس: عدالت کا انکوائری مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی
- نوجوان صحافی سید حسن ہمدانی یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کشمیر کیبنٹ کے وائس پریذیڈینٹ مقرر