حال ہی میں جب ایک چینی طالب علم امریکہ کے سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو اسے امریکی سرحدی قانون نافذ کرنے والے حکام پوچھ گچھ کے لیےچھوٹے بلیک روم میں لے گئے، 20 گھنٹے سے زائد عرصے تک حراست میں رکھا گیا اور بالآخر اس کا ویزا منسوخ کر دیا گیا اور وطن واپس بھیج دیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ قانون کے نفاذ کے عام دائرے سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے عمل نے چین اور امریکہ کے درمیان معمول کے افرادی تبادلوں میں سنگین مداخلت کی ہے، اور چینی اور امریکی سربراہان مملکت کے اتفاق رائے کی بھی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔چین اس پرسنگین اعتراض اور مخالفت کا اظہار کرتا ہے۔
ماؤ نینگ نے زور دے کر کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ نام نہاد “قومی سلامتی” کی آڑ میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے چینی طالب علموں کو ہراساں کرنا بند کرے، دوطرفہ تعلقات میں رائے عامہ کے ماحول کو زہر آلود کرنا بند کرے، دونوں عوام کے درمیان دوستانہ تبادلوں میں رکاوٹ ڈالنا بند کرے۔ماؤ نینگ نے کہا کہ چین چینی شہریوں کے جائز اور قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گا۔
Trending
- امریکا میں ڈیزل کی فی گیلن قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
- تین ہزار برس قدیم ’چیختی ممی‘ کی پراسرار موت کا معمہ
- ملک میں سونے کے بھاؤ میں کمی ریکارڈ
- اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” کی حوصلہ افزائی خطے کو خطرناک بھنور میں دھکیل دے گی، چینی وزارت دفاع
- تائیوان کے معاملے پر حد پار کرنے والوں کو لامحالہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، چینی وزارت خارجہ
- چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کی ملاقات میں اہم ترین اتفاق رائے چین اور بھارت کا شراکت دار بننا ہی ہے، چینی وزارت خارجہ
- 72 سالہ ملائیشین فٹبال لیجنڈ کی اپنی عمر سے 50 سال چھوٹی لڑکی سے شادی
- بزرگوں اور زچہ و بچہ کی دیکھ بھال، اور طبی علاج سمیت عوامی صحت کے لیے چین کی آئندہ پانچ سال کی اہم منصوبہ بندی
- شنگھائی تعاون تنظیم سے برکس تک: گلوبل ساؤتھ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کو کس طرح آگے بڑھا رہا ہے،چینی میڈیا