حال ہی میں جب ایک چینی طالب علم امریکہ کے سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو اسے امریکی سرحدی قانون نافذ کرنے والے حکام پوچھ گچھ کے لیےچھوٹے بلیک روم میں لے گئے، 20 گھنٹے سے زائد عرصے تک حراست میں رکھا گیا اور بالآخر اس کا ویزا منسوخ کر دیا گیا اور وطن واپس بھیج دیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ قانون کے نفاذ کے عام دائرے سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ کے عمل نے چین اور امریکہ کے درمیان معمول کے افرادی تبادلوں میں سنگین مداخلت کی ہے، اور چینی اور امریکی سربراہان مملکت کے اتفاق رائے کی بھی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔چین اس پرسنگین اعتراض اور مخالفت کا اظہار کرتا ہے۔
ماؤ نینگ نے زور دے کر کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ نام نہاد “قومی سلامتی” کی آڑ میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے چینی طالب علموں کو ہراساں کرنا بند کرے، دوطرفہ تعلقات میں رائے عامہ کے ماحول کو زہر آلود کرنا بند کرے، دونوں عوام کے درمیان دوستانہ تبادلوں میں رکاوٹ ڈالنا بند کرے۔ماؤ نینگ نے کہا کہ چین چینی شہریوں کے جائز اور قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گا۔
Trending
- پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ، معاشی استحکام کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر قرار
- پی ایس ایکس 100 انڈیکس 495 پوائنٹس کم ہوکر 1 لاکھ 75 ہزار 547 پر بند
- سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ
- سعودی وزیرِ دفاع کی امریکی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا خصوصی پیغام پہنچایا
- پاکستانی پیسرز نے 31 سال بعد منفرد کارنامہ انجام دے دیا
- اے آئی کی ترقی کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا، چینی میڈیا
- ثقافتی یلغار کے نرغے میں ایمان، ماحولیات اور آبادیاتی توازن
- پاکستان کی عالمی جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میں رسائی
- کیا آپ بھی بھولنے کی عادت کا شکار ہیں؟ یہ غذائیں یادداشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں
- مشرق وسطیٰ میں نیا محاذ کھل گیا، تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی