بیجنگ(نیوزڈیسک)برطانوی حکومت نے نام نہاد “ہانگ کانگ پر نصف سالہ رپورٹ” جاری کی۔ اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ کی نام نہاد رپورٹ نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہانگ کانگ کے معاملات اور چین کے اندرونی معاملات میں سراسر مداخلت کی ہے اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ قومی سلامتی قانون کے نفاذ کے بعد ہانگ کانگ کے باشندوں کو قانون کے مطابق حاصل حقوق اور آزادیوں کا بہتر تحفظ کیا گیا ہے اور ہانگ کانگ نے معاشی ترقی کے بہترین دور کا آغاز کیا ہے اور ترقی کا مستقبل مزید روشن ہے۔ ہانگ کانگ کے معاملات خالصتاًچین کے داخلی معاملات ہیں۔ ہم برطانیہ کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس بنیادی حقیقت کا احترام کرے کہ ہانگ کانگ کی واپسی کو تقریباً 27 سال ہو چکے ہیں اور برطانیہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے، اور چین کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے مجرموں اور عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کی پشت پناہی اور ان کی حوصلہ افزائی بند کرے۔
Trending
- 1 ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 59 روپے کا اضافہ
- آسان ٹیکس اسکیم: ایف بی آر اور تاجر نمائندوں کی جانب سے دکانداروں کو رجسٹرد کرنے پر اتفاق
- پیٹرول 4 اور ڈیزل 6 روپے مہنگا ہونے کا امکان، ذرائع اوگرا
- پرواز میں خاتون کی نازیبا حرکت، طیارے سے اترتے ہی گرفتار
- پاکستان کا سعودی عرب کیساتھ تجارتی خسارہ 18.37 فیصد کم ہوگیا
- ویمنز ایشیا کپ: بھارتی ٹیم کو محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے کس نے منع کیا؟ کوچ کا انکشاف
- رضااللہ ہیرو، زیرو پھر ہیرو
- مسلم لیگ (ق) ہیومن رائٹس ونگ کا اہم اجلاس، تنظیم سازی اور عوامی شکایات کے حل پر غور
- ایلیگزینڈر زیوریو نے پہلی مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل جیت لیا
- گزشتہ سال نافذ ہونے والا نیا وائیڈ بال قانون کیا ہے؟ ثناء میر نے وضاحت کردی