بیجنگ(نیوزڈیسک)برطانوی حکومت نے نام نہاد "ہانگ کانگ پر نصف سالہ رپورٹ” جاری کی۔ اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ کی نام نہاد رپورٹ نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہانگ کانگ کے معاملات اور چین کے اندرونی معاملات میں سراسر مداخلت کی ہے اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ قومی سلامتی قانون کے نفاذ کے بعد ہانگ کانگ کے باشندوں کو قانون کے مطابق حاصل حقوق اور آزادیوں کا بہتر تحفظ کیا گیا ہے اور ہانگ کانگ نے معاشی ترقی کے بہترین دور کا آغاز کیا ہے اور ترقی کا مستقبل مزید روشن ہے۔ ہانگ کانگ کے معاملات خالصتاًچین کے داخلی معاملات ہیں۔ ہم برطانیہ کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس بنیادی حقیقت کا احترام کرے کہ ہانگ کانگ کی واپسی کو تقریباً 27 سال ہو چکے ہیں اور برطانیہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے، اور چین کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے مجرموں اور عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کی پشت پناہی اور ان کی حوصلہ افزائی بند کرے۔
Trending
- درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکس قیمت کا 54 فیصد ہے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ
- سول سرونٹس ایکٹ ترمیم، سوشل میڈیا کے استعمال، سرکاری پالیسیوں سے اختلاف سمیت دیگر سخت پابندیاں عائد
- دورہ بنگلادیش کیلیے قومی ٹیسٹ ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
- میوچل فنڈ انویسٹرز کے لیے سوئنگ پرائسنگ سسٹم کے نافذ کرنے کی تجویز
- عوامی اعتماد کیلیے ٹیکس تنازعات کا بروقت حل ناگزیر: چیف جسٹس
- نشے میں ڈرائیونگ، وارنر کی کپتانی خطرے میں پڑگئی
- ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
- سندھ میں درآمدی ایل سیز کے لیے نئے نظام کی منظوری
- بنگلادیش کے اہم کھلاڑی کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
- Krishna Abhishek and Govinda’s wife Sunita Ahuja reconcile after 14 years