بیجنگ (ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی ہے جو تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کے ایک نئے دور کی قیادت کرتی ہے، اور نئی صنعت کاری کے لیے ایک اہم محرک ہے۔ چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 18 تاریخ کو بتایا کہ چین میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترجمان تاؤ چھینگ نے کہا کہ اگلا قدم الگورتھم اور کمپیوٹنگ پاور سمیت دیگر بگ ماڈل بنیادی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر، سمارٹ چپس، بگ ماڈل الگورتھم اور فریم ورک سمیت کلیدی ٹکنالوجیز اور مصنوعات کی پیش رفت کو تیز کیا جائے گا۔
تاؤ چھینگ نے کہا کہ کلیدی صنعتوں کے لیےمصنوعی ذہانت کے ساتھ نئی صنعت کاری کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ مینوفیکچرنگ کے پورے عمل میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے اطلاق کو گہرا کیاجائے، اور آر اینڈ ڈی، پیداوار، خدمات، انتظام میں ذہانت کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کیا جائے گا۔
Trending
- ازبکستان کا پاکستان کو 35 کرکٹ کٹس کا تحفہ
- آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ، ن لیگ 9 اور پیپلز پارٹی 4 نشستوں پر کامیاب
- رونالڈو کی ہالی ووڈ میں انٹری، فٹبال ڈرامہ سیریز میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گے
- ممتاز قانون دان و بانی پی ٹی آئی کے سابق وکیل محمد حبیب قریشی ایڈووکیٹ ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ میں شامل
- مومنہ اقبال اسکینڈل: ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل، ایم پی اے قصوروار پائے گئے
- ڈاکٹریٹ کے پاکستانی طالب علم چین سے جدید زرعی ٹیکنالوجیز وطن لانے کے لئے پر عزم
- فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا کوئٹہ میں بزدلانہ حملہ، ایک شہری شہید
- محمد عباس پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین ٹیسٹ بولر بن گئے
- ٹک ٹاکر عائشہ جٹ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ، رجب بٹ کے ساتھی کی عبوری ضمانت منظور
- عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالرز سے زائد اضافہ