بیجنگ (ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی ہے جو تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کے ایک نئے دور کی قیادت کرتی ہے، اور نئی صنعت کاری کے لیے ایک اہم محرک ہے۔ چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 18 تاریخ کو بتایا کہ چین میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترجمان تاؤ چھینگ نے کہا کہ اگلا قدم الگورتھم اور کمپیوٹنگ پاور سمیت دیگر بگ ماڈل بنیادی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر، سمارٹ چپس، بگ ماڈل الگورتھم اور فریم ورک سمیت کلیدی ٹکنالوجیز اور مصنوعات کی پیش رفت کو تیز کیا جائے گا۔
تاؤ چھینگ نے کہا کہ کلیدی صنعتوں کے لیےمصنوعی ذہانت کے ساتھ نئی صنعت کاری کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ مینوفیکچرنگ کے پورے عمل میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے اطلاق کو گہرا کیاجائے، اور آر اینڈ ڈی، پیداوار، خدمات، انتظام میں ذہانت کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کیا جائے گا۔
Trending
- فیلڈ مارشل کا وفد کے ہمراہ ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل
- فتح جنگ میں رات 10 بجے کے بعد شادی ہال کی خلاف ورزی، 2 لاکھ جرمانہ، ہال سیل اور مقدمہ درج
- پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں بڑا اضافہ
- خطے میں کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا فضائی آپریشن بتدریج بحال ہونا شروع
- جاپانی حکومت کے خلاف ہزاروں جاپانی شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلی
- چینی صارفین کو جدید ترین اور بہترین مصنوعات کی فراہمی
- امریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل
- چین کی معاشی ترقی عالمی معیشت کے لئے استحکام کا باعث ہے، چینی میڈیا
- 2026 کا اقوام متحدہ کا چینی زبان کا دن اور چائنا میڈیا گروپ کا چھٹا اوورسیز فلم فیسٹیول کامیابی سے منعقد ہوا
- گڈز ٹرانسپورٹرز کا ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود کرائے کم نہ کرنے کا اعلان