بیجنگ (ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی ہے جو تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کے ایک نئے دور کی قیادت کرتی ہے، اور نئی صنعت کاری کے لیے ایک اہم محرک ہے۔ چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 18 تاریخ کو بتایا کہ چین میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترجمان تاؤ چھینگ نے کہا کہ اگلا قدم الگورتھم اور کمپیوٹنگ پاور سمیت دیگر بگ ماڈل بنیادی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر، سمارٹ چپس، بگ ماڈل الگورتھم اور فریم ورک سمیت کلیدی ٹکنالوجیز اور مصنوعات کی پیش رفت کو تیز کیا جائے گا۔
تاؤ چھینگ نے کہا کہ کلیدی صنعتوں کے لیےمصنوعی ذہانت کے ساتھ نئی صنعت کاری کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ مینوفیکچرنگ کے پورے عمل میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے اطلاق کو گہرا کیاجائے، اور آر اینڈ ڈی، پیداوار، خدمات، انتظام میں ذہانت کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کیا جائے گا۔
Trending
- سولر کی وجہ سے بجلی مہنگی نہیں ہوئی، پینلز پر ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے، ایف بی آر حکام
- بجٹ مایوس کن ہوگا، فوٹوسیشن کیلیے وزیراعظم کے پاس نہیں جانا چاہتے، چیئرمین پی ٹی آئی
- پیٹرول پر لیوی میں کمی، ڈیزل پر بڑھا دی گئی
- shopkeepers fixed tax – ایکسپریس اردو
- درآمدی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان، ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
- بجٹ عوام دوست نہیں، حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا تحفظات کا اظہار
- بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا خاتمہ تاریخی ریلیف ہے: وفاقی وزیرِ بحری امور
- وفاقی بجٹ: ٹرانسپورٹ شعبے سے متعلق ٹیکس اور ڈیوٹی میں تبدیلیوں کی تجاویز پیش
- فیفا ورلڈکپ: میکیسکن ٹیم کے گول پر اسٹیڈیم میں موجود صدر کا جشن، ویڈیو وائرل
- حکومتی بجٹ عوام کیلیے غیرسود مند، کراچی کو نظر انداز کیا گیا، چیمبر آف کامرس