چین کا بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے ایران کے جوہری مسئلے پر غور ختم کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نائب مندوب سون لئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں "بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی سالانہ رپورٹ” پر غور کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ایران کے جوہری مسئلے پر غور ختم کر دینا چاہیے۔
سون لئی نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو غیر جانب دارانہ اور غیر متعصبانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنے مینڈیٹ کے مطابق فرائض انجام دینے چاہیں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری مسئلے کا مناسب حل بالآخر سفارتی ذرائع ہی سے ممکن ہے، جبکہ طاقت کے استعمال، پابندیوں اور دباؤ سے اختلافات اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے غیر جوہری ہتھیاروں کے حامل فریق کی حیثیت سے ایران کو جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے عہد کی پاسداری کرنی چاہیے، جبکہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے اس کے جائز حق کا احترام بھی ضروری ہے۔ سون لئی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مدت ختم ہو چکی ہے، لہٰذا سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ایران کے جوہری مسئلے پر غور بند کر دینا چاہیے اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو اس حوالے سے مزید رپورٹس پیش نہیں کرنی چاہیے۔
سون لئی نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان جوہری آبدوزوں کے شعبے میں تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مقاصد اور اس کے اہداف سے متصادم ہے، اس میں سنگین جوہری پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہےاور یہ معاہدے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حفاظتی نگرانی کے نظام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
سون لئی نے زور دیا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو تمام فریقوں کے ساتھ مل کر یک طرفہ اقدامات اور تحفظ پسندی کی مخالفت کرنی چاہیے، رکن ممالک کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے جائز حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو جوہری توانائی اور جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی اور استعمال میں معاونت فراہم کرتے رہنا چاہیے۔



