برازیل کی وفاقی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موراس نے فیصلہ سنایا کہ برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو نے عدلیہ پر دباؤ ڈالا، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، اور قومی خودمختاری کو کھلم کھلا خطرے میں ڈالا، عدالت نے بولسونارو کے خلاف اقدامات کا حکم دے دیا۔
برازیل کی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سابق صدر بولسونارو کو برقی بیڑیاں پہنائی جائیں اور ان پر نظر رکھی جائے۔ہر پیر سے جمعہ شام 7 سے اگلے دن صبح 6 بجے تک ان کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، اور انہیں اختتام ہفتہ اور تعطیلات پر پورے دن گھر میں نظربند رہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ انہیں غیر ملکی حکام، سفارت کاروں سے رابطے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بولسونارو پر 2022 کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد مبینہ طور پر بغاوت کی کوشش کرنے کا مجرمانہ الزام عائد کیا گیا تھا۔ بولسونارو نے بار بار سوشل میڈیا کے ذریعے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ’’سیاسی ظلم‘‘ ہے۔ اسی دن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ برازیل کی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موراس اور ان کے قریبی اہل خانہ اور ‘سپریم کورٹ کے اتحادیوں کے امریکی ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ روبیو کا کہنا تھا کہ ڈی موراس نے بولسونارو پر ’’سیاسی جبر‘‘ کیا ہے۔
Trending
- ساف چیمپئن شپ: افتتاحی میچ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت مدمقابل ہوں گے
- Taylor Swift upset with cameraman for filming match video goes viral
- ملکی بندرگاہی اصلاحات کے نتائج؛ وصولیاں 3 ارب سے بڑھ کر 7 ارب ہو گئیں
- پیٹرولیم بحران؛ ہفتے میں 4 دن کام، 3 دن چھٹی؟
- ویمنز ایشیا کپ: راجیو شکلا نے محسن نقوی سے ٹرافی نہ لینے کی وجہ بتا دی
- ہالی ووڈ کی پہلی اے آئی اداکارہ ٹلی نوروڈ کا آن کیمرا انٹرویو توجہ کا مرکز بن گیا
- ایگرو پروسیسرز اینڈ ایٹموسفیرک گیسز لمیٹڈ کی پی ایس ایکس میں فہرست سازی
- پیسے نہ دینے پر ماں کو قتل کرنے والے بیٹے کو سزائے موت
- ویرات کوہلی کا پہلا کرش کون سی بالی ووڈ اداکارہ تھیں؟
- تنیشا مکھرجی کی شادی شدہ مردوں سے تعلقات رکھنے والی خواتین پر شدید تنقید