برازیل کی وفاقی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موراس نے فیصلہ سنایا کہ برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو نے عدلیہ پر دباؤ ڈالا، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، اور قومی خودمختاری کو کھلم کھلا خطرے میں ڈالا، عدالت نے بولسونارو کے خلاف اقدامات کا حکم دے دیا۔
برازیل کی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سابق صدر بولسونارو کو برقی بیڑیاں پہنائی جائیں اور ان پر نظر رکھی جائے۔ہر پیر سے جمعہ شام 7 سے اگلے دن صبح 6 بجے تک ان کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، اور انہیں اختتام ہفتہ اور تعطیلات پر پورے دن گھر میں نظربند رہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ انہیں غیر ملکی حکام، سفارت کاروں سے رابطے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بولسونارو پر 2022 کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد مبینہ طور پر بغاوت کی کوشش کرنے کا مجرمانہ الزام عائد کیا گیا تھا۔ بولسونارو نے بار بار سوشل میڈیا کے ذریعے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ’’سیاسی ظلم‘‘ ہے۔ اسی دن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ برازیل کی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موراس اور ان کے قریبی اہل خانہ اور ‘سپریم کورٹ کے اتحادیوں کے امریکی ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ روبیو کا کہنا تھا کہ ڈی موراس نے بولسونارو پر ’’سیاسی جبر‘‘ کیا ہے۔
Trending
- پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ، معاشی استحکام کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر قرار
- پی ایس ایکس 100 انڈیکس 495 پوائنٹس کم ہوکر 1 لاکھ 75 ہزار 547 پر بند
- سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ
- سعودی وزیرِ دفاع کی امریکی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا خصوصی پیغام پہنچایا
- پاکستانی پیسرز نے 31 سال بعد منفرد کارنامہ انجام دے دیا
- اے آئی کی ترقی کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا، چینی میڈیا
- ثقافتی یلغار کے نرغے میں ایمان، ماحولیات اور آبادیاتی توازن
- پاکستان کی عالمی جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میں رسائی
- کیا آپ بھی بھولنے کی عادت کا شکار ہیں؟ یہ غذائیں یادداشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں
- مشرق وسطیٰ میں نیا محاذ کھل گیا، تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی