اسرائیل کی گلوبل فلوٹیلا کارکنان کی گرفتاری پر پاکستان کا سخت ردعمل، چودھری سالک حسین کا بائیکاٹ کا مطالبہ
اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی چودھری سالک حسین نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے سماجی و معاشی حالات میں ہنر مند افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے اور اس میں خواتین، محروم طبقات اور کمزور گروہوں کو بھی برابر کا موقع دینا ہوگا۔”ٹو ڈے انٹرنیشنل ڈائیلاگ آن ٹی وی ای ٹی” کے اہم پالیسی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کو سب کے لیے قابل رسائی اور جامع بنایا جائے تاکہ کوئی بھی فرد پیچھے نہ رہ جائے۔
تقریب میں بین الاقوامی تنظیموں، سفارتی نمائندوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد شریک تھی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک کے ساتھ مہارتوں کے فروغ سے متعلق معاہدے کیے ہیں تاکہ بین الاقوامی معیار کی ٹریننگ پاکستان میں ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام، نیوٹیک اور ٹیوٹا جیسے ادارے عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پر بھرپور کام کر رہے ہیں۔ بعدازاں صحافیوں سے گفتگو میں چوہدری سالک حسین نے کہا کہ گزشتہ سال 7 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے اور حکومت وائٹ کالر اور مینجمنٹ سطح کی ملازمتوں کے مواقع بھی بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف پاکستانیوں کو باہر بھیجنا کافی نہیں بلکہ ان کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول بھی یقینی بنایا جائے، خاص طور پر بیلاروس جیسے ممالک میں۔ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے مختلف ممالک سے مثبت بات چیت جاری ہے اور جلد قابل قبول ویزا پالیسیز متعارف کرائی جائیں گی۔ اسرائیل کی جانب سے گلوبل فلوٹیلا کے کارکنان کی گرفتاری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے عالمی برادری سے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔
چودھری سالک حسین نے کہا کہ اسرائیل کے مظالم پر اب خاموشی نہیں بلکہ اجتماعی ردعمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مزید برآں چودھری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تاریخ کے بہترین دور سے گزر رہے ہیں اور ہمیں چین، روس سمیت تمام عالمی قوتوں سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بات چیت سے سیاسی معاملات حل ہو جائیں گے۔