مظفرآباد:نومنتخب وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اللہ رب العزت کا شکر ہے کہ مجھ جیسے سیاسی کارکن پر وزارت عظمی کی ذمہ داری ڈالی، یہ میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم نے کم وقت میں ڈلیور کرنا ہے۔ میرے آج سے دس پندرہ سال کے پہلے کے اثاثے اور جب یہاں سے جاوں گا اس وقت کے بھی اپنے اثاثے دکھا کر جاوں گا۔ اخلاص اور دیانتداری سے معاملات لیکر چلوں گا۔قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے میرے والدراجہ ممتاز حسین راٹھور کو سینئر وزیر، محترمہ بینظیر بھٹو نے میرے والد کو وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری نے مجھ پر اعتماد کر کے مجھے بھی قائد ایوان نامزد کیا جس پر انکا شکرگزار ہوں، یہ اعتماد نصف صدی سے ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، محترمہ فریال تالپور، چوہدری ریاض ، اپنی پارلیمانی پارتی اورتمام ممبران اسمبلی کا شکرگزار ہوں۔یہ ذمہ داری مجھ اکیلے نے نہیں بلکہ ان سب نے لی ہے جنہوں نے مجھے ووٹ دیا۔ مسلم لیگ ن کے اراکین اور وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔میری والدہ ایک دلیر خاتون تھیں ، اپنی والدہ محترمہ کی سرپرستی اور شفقت نے مجھے حوصلہ اور ہمت دی ۔
اہلیان حویلی جنہوں نے مجھے منتخب کیا انکا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری شکل اور لباس پر مت جائیں سفید پوشی سے سیاست کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکمران طبقہ صرف عیاشیوں اور ذاتی مفادات کے لیے آتے ہیں، سب سے بڑی قربانی ہی سیاست دان دیتا ہے۔ میرے والد بڑے عہدوں پر فائز رہے لیکن ساری زندگی میں دوستوں کے تعاون سے صرف ایک مکان بنایا جو میں نے 2021 کے الیکشن میں بیچ دیا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ دورہ بیانیے کا دور ہے۔ جو ممبران اسمبلی پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اگر ہم حکومت نہ بھی بناتے تو انہوں نے پیپلز پارٹی میں ہی شامل ہونا تھا۔ یہاں بیٹھا کوئی شخص عقل کل نہیں، سیکھنے کا عمل قبر تک جاری رہتا ہے۔ اپوزیشن کو یقین دلاتا ہوں کہ فنڈز کی تقسیم سمیت دیگر امور میں ان کے ساتھ تعاون کرونگا۔انہوں نے کہاکہ جو قربانیوں افواج پاکستان نے ہمارے لیے دی اسکی مثال نہیں ملتی، زلزلہ ہو یا سیلاب یا بنیان المرصوص ہر مرحلے پر افواج پاکستان نے ہمارے سر فخر سے بلند کیے۔لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بسنے والے کشمیریوں کو بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہوں وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ جموں و کشمیر بھی آزاد ہوگا۔ نومنتخب وزیراعظم نے کہاکہ انشاءاللہ صرف چہرہ نہیں نظام بھی تبدیلی محسوس ہوگی اور یہی ہماری اصل کامیابی ہوگی۔ سیکرٹری صاحبان ایک گاڑی استعمال کرنے کے مجاز ہونگے۔ سیکرٹریز کی تعداد 20 سے زائد نہیں ہوگی، سینئر ایڈیشنل سیکرٹریز اور ایڈیشنل سیکرٹریز کی آسامیاں ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ڈاون سائزنگ کا پراسس نچلی سطح تک لے کر جائیں گے۔ ٹیوٹا کو محکمہ تعلیم میں ضم کرنے، ازسر نو ٹرانسپورٹ پالیسی مرتب کرنے کا اعلان کرتا ہوں، ٹرانسپورٹ پالیسی مرتب ہونے تک گریڈ 18 سے نیچے ماسوائے انتظامیہ ، پولیس اور مانیٹرنگ کرنے والے اسسٹنٹ انجینئرز کے علاوہ کوئی افسر سرکاری گاڑی استعمال نہیں کریگا،تمام محکمہ جات ایک ہفتہ میں اضافی سرکاری گاڑیاں سرکاری ٹرانسپورٹ پول میں جمع کروانے کے پابندہونگے ، بائیو میٹرک پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔ پبلک سروس کمیشن کو فعال کرنے اوریکم جنوری 2020 تک پی ایس سی کے ذریعے مشتہر ہونے کے بعد واپس لی جانیوالی آسامیوں کے نوٹیفکیشن منسوخ کرنے کا اعلان کرتاہوں، پبلک سروس کمیشن ایک ماہ میں ان پر امتحان لیکر اہل امیدواران کا تقرر کریگا۔ گریڈ 18 تک جملہ آسامیاں جن کی تقرری کا کوٹہ 100 فیصد ہے کے علاوہ تمام آسامیوں پر تقرری کے لیے براہ راست کو ٹہ کم از کم 50 فیصدمقرر کرنے کا اعلان کرتاہوں ، تمام محکمہ جات ایک ماہ میں عملدرآمد کرینگے ، ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق تھرڈ پارٹی ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کا اعلان کرتاہوں ، ایکٹ کے تحت نہ صرف سرکاری محکمہ جات بشمول لوکل گورنمنٹ بورڈ ، پی ڈی او، ترقیاتی ادارہ جات اور اے جے کے بینک میں بھی تھرڈ پارٹی ایکٹ کے نفاذ کا اعلان کرتا ہوں۔ تمام محکمہ جات کے لیے یکساں ٹائم سکیل پالیسی ، گریڈ 19 سے اوپر کسی کو ٹائم سکیل نہیں دیاجائیگا،جہاں سیکشن افسرز اور اے ڈی کی آسامیاں موجود ہیں وہاں نگران کی جملہ آسامیوں کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔عوامی شکایات کو دور کرنے کیلئے وزیراعظم ، وزرا ، چیف سیکرٹری، سیکرٹریز اور سربراہان محکمہ جات ہر ضلع میں کھلی کچہریاں لگائیں گے ، اس کے علاوہ وزیراعظم اور چیف سیکرٹر ی آفس میں شکایات باکس لگاے جائیں گے جو ہر پندرہ روز بعد وزیراعظم اور چیف سیکرٹری کی نگرانی میں کھولے جائیں گے ۔ عوام کو انتظامی انصاف کی فراہمی کے لیے اعلی عدلیہ کی مشاورت سے عدالتی اصلاحات لانے کا اعلان کرتا ہوں۔ ہائیڈل پراجیکٹ کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ کے ساتھ ملکر وفاقی حکومت سے معاہدہ یقینی بنایا جائے گا۔ انٹرنیٹ کی رفتار کو تیز کرنے سمیت لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ راجہ ممتازحسین راٹھور حسین کے فرزند کی طرف سے چھوٹے ملازمین ہمیشہ توقعات وابستہ رکھتے ہیں ان کی دلجوئی کیلئے سکیل 1 کے تمام ملازمین جو مستقل آسامیوں پر تعینات ہیں اور ان پر عدالتی مقدمات نہیں اور کسی کا حق عود متاثر نہیں ہورہا ان سب کو مستقل کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔سکیل ایک کے جملہ ملازمین کوایک اضافی تنخواہ دینے کا اعلان کرتا ہوں جو محکمہ جات اپنے ترقیاتی بجٹ سے دینے کے پابندہونگے ، تمام ڈرائیورز کی آسامیوں کو بی 5 میں اپ گریڈ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ پولیس کانسٹیبلز کی تمام مراعات کو پنجاب کے برابر نیز وی آئی پیز کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس ملازمین کو دیگر ملازمین کیطرح TA/DAدیے جانے کا اعلان کرتاہوں ۔ آزادکشمیر کی جملہ جیلوں میں موجود قیدیوں کی سزا میں 60 ایام کی معافی کا اعلان کرتا ہوں تاہم یہ اطلاق حدود قصاص، دیت ، جاسوسی،ملک دشمن سرگرمی اور دہشتگردی کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدیوں پر نہیں ہوگا۔ بنومنتخب وزیراعظم نے کہاکہ آج سیاسی جمود ٹوٹا ہے۔ آج یہاں جو ماحول دیکھا گیا وہ سیاسی جماعت کی حکومت بننے کیوجہ سے ہے، شاید لوگ سیاسی جماعت کی حکومت کے منتظر تھے۔ اندازہ ہے یہ کہ یہ کرسی کانٹوں کی سیج ہے پھولوں کا بستر نہیں لیکن اگر ساتھیوں اور سیاسی کارکنان کا تعاون رہا تو یہ پھولوں کی سیج بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم کا قلم اس وقت چلتا تھا جب ریاست میں بھونچال آجاتا تھا۔ پچھلی حکومت کے فیصلے تاخیر کیوجہ سے خراب ہوئے۔انہوں نے کہاکہ میرے پاس جذبہ اورخدمت کی لگن ہے۔ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی ایک حقیقت ہے اسے ساتھ لیکر چلنا ہے ، ایکشن کمیٹی کے ساتھ کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے ، عوام کے مسائل حل ہونے ہی ہیں لیکن اپنی چادر دیکھ کر ، ریاست کے وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے جو معاملہ قلم کی طاقت سے حل ہوتا ہوا تو ایک لمحہ کی تاخیر نہیں ہوگی۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے کہا ہے کہ جو معاملات آزادکشمیر حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں انکو حل کرنے میں بالکل تاخیر نہ کروں اور جو کام حکومت پاکستان کے ہیں اسکی ضمانت ہم دیتے ہیں ۔ اگر ان آٹھ نو ماہ میں ہم نے ڈلیور کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ حکومت بنا لی تو اگلے انتخابات کے بعد میں بطور ایم ایل اے بھی فخر کرونگا۔