اعتصام الحق
سال 2025 اختتام کو پہنچا ۔اس نئے سال کا جب آغاز ہوا تھا تو ماہرین نے دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز میں دہشت گردی ،انتہا پسندی ،یکطرفہ پسندی ،تحفظ پسندی ،غربت ،تعلیم ،صحت اور موسمیاتی تبدیلی کو شامل کیا تھا ۔ان تمام چیلنج میں موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہر ملک کو ہے اور اس کے سد باب کے لیے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے اور انفرادی سطح پر بھی تمام ممالک کوششیں کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کا 2030 تک پائیدار ترقیاتی پروگرام اس بات کی ضمانت فراہم کر تا ہے کہ تمام ممالک اپنی اپنی انفرادی کوششوں سے ہی ایک اجتماعی تحریک پیدا کریں گے اور اسی مقصد کے تحت اگر چین کی ترقی کا جائزہ اور اس ترقی میں شامل ماحولیاتی کامیابیوں کا جائزہ لیں تو ایک عزم ہے جو ہمیں اب مستقل بنیادوں پر نظر آتا ہے۔آئیے سال 2025 میں چین کی ماحولیات کے اعتبار سے کامیابیوں اور کوششوں کو دیکھتے ہیں
چین نے اپنے چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2021–2025) کے دوران ماحولیات میں خاطر خواہ پیشرفت کی ہے ۔چین میں جنگلات کی کوریج میں اضافہ ہوا،36.6 ملین ہیکٹر کا سبز کاری پروگرام مکمل ہوا، اور جنگلات کا ذخیرہ 20.99 بلین مکعب میٹر تک پہنچا ۔ یہ 2030 کے ہدف سے پہلے حاصل ہوا۔ اہم ایکو سسٹمز کی بحالی کا کام بھی جاری ہے اور ساحلی علاقوں اور دلدی زمینوں کی بحالی کے منصوبے مضبوط ہوئے ہیں۔
شہروں میں فضائی معیار بہتر ہوا اور PM2.5 کی سطح میں کمی دیکھی گئی۔ سطح آب کی بہترین درجہ بندی والے پانی کے حصے میں اضافہ بھی ہوا۔ یانگزی اور بیجنگ جیسے اہم علاقوں میں صاف پانی اور بہتر ہوا کے دنوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ۔
چین کی ماحول کی بہتری کی کوششوں میں ایک اہم کوشش قابل تجدید توانائی میں چینی سرمایہ کاری اور اس کا فروغ شامل ہے ۔چین نے قابل تجدید توانائی کی تنصیبی گنجائش میں عالمی لیڈرشپ برقرار رکھی ہے۔ 2025 کے نصف تک تنصیب شدہ گنجائش 2.159 بلین کلو واٹ تک پہنچی جو ہوا، شمسی اور دیگر صاف ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ
چین نے اپنا پہلا جامع ماحولیاتی قانون (Environmental Code) پیش کیا جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، آلودگی کی روک تھام، اور کم کاربن ترقی کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔
ماحولیاتی معاملات کے لیے دنیا کا سب سے بڑا ماہر عدالتی نیٹ ورک قائم کیا گیا جس میں لاکھوں مقدمات پر کارروائی ہوئی، اور ماحولیاتی جرائم کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔ اس اقدام کی مثال دنیا میں اس درجہ پر کہیں نظر نہیں آتی۔
بین الاقوامی کامیابیوں کی بات کی جائے تو چین نے دیگر ممالک کے ساتھ گرین توانائی تعاون بڑھایا ہے، بشمول صاف توانائی کی ٹیکنالوجی، ماحولیاتی نگرانی کے نظام اور کم کاربن انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے تکنیکی مدد میں بھی چین نمایاں نظر آیا ہے ۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں چین کی مینیو فیکچرنگ کی کار فرما رہی اور پاکستان سولر پینلز کے ایک بڑے امپورٹر کے طور پر ابھرا ۔ موسمیاتی تبدیلی، اور بایو ڈائیورسیٹی کے عالمی اہداف کی حمایت اور نفاذ میں بھی چین کا اہم حصہ رہا ۔ اسے اپنے 2030 تک کاربن پیک تک پہنچنے اور 2060 تک کاربن نیوٹرلٹی کے وعدے کے ساتھ اس مشترکہ عالمی ایجنڈے میں شمار کیا جاتا ہے۔
چین نے گلوبل بایو ڈائیورسیٹی فریم ورک ایکشن جیسے تعاون کے پروگرام شروع کیے اور ترقی پذیر ممالک میں تحفظ کے منصوبوں کو فنڈ فراہم کیا، جس سے عالمی بایو ڈائیورسیٹی کے اہداف کی طرف پیشرفت میں معاونت ملی ہے۔
سال 2025 میں چین نے اپنے 2035 کے لیے نیا قومی طے شدہ تعاون (NDC) بھی جمع کروایا، جس میں معیشت بھر کے گرین ہاؤس گیس اخراج کو ان کے عروج سے 7-10 فیصد تک کم کرنے کا وعدہ شامل ہے۔ اس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا ہدف ہے جو پہلے سے موجود پالیسیوں کے تحت ممکن بننے والے اہداف کا بنیادی نچلا معیار ہے، مگر یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ چین عالمی معاہدوں کے تحت اپنی شمولیت برقرار رکھتا ہے۔
سو اگر خلاصہ کیا جائے تو 2025 میں چین نے ملکی سطح پر ماحولیاتی معیار بہتر کیا، بڑے پیمانے پر سبز توانائی بڑھائی، قانون سازی مستحکم کی، اور عدالتی نظام میں ماحولیاتی تحفظ کو مضبوط بنایا۔ بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی اہداف کے لیے شراکت میں بھی کردار ادا کیا۔ ان اقدامات نے چین کو ماحولیاتی ترقی میں ایک فعال شریک ملک کے طور پر پیش کیا ہے، اگرچہ کچھ مبصرین مزید سخت اہداف کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔