News Views Events

نائٹ ٹائم اکانومی

0

 

اعتصام الحق

 

چین میں معاشی سرگرمیوں کا ایک نیا رخ تیزی سے ابھر رہا ہے جسے “نائٹ ٹائم اکانومی” کہا جا رہا ہے۔ دن کی روشنی کے بعد شروع ہونے والی یہ معیشت صرف خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس میں ثقافت، سیاحت، خوراک، تفریح اور طرزِ زندگی کے کئی پہلو شامل ہو چکے ہیں۔ چینی حکومت اور مقامی انتظامیہ اس شعبے کو معاشی نمو، روزگار کے مواقع اور شہری زندگی میں جدت لانے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتی ہے۔ دارالحکومت بیجنگ اس سلسلے میں ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں تاریخ اور جدت کا امتزاج رات کے وقت ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے۔
بیجنگ کے مختلف اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد شہر کی فضا بدل جاتی ہے۔ روشن گلیاں، کھلے بازار، ثقافتی سرگرمیاں اور خریداروں کا ہجوم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ رات اب محض آرام کا وقت نہیں رہی بلکہ ایک مکمل معاشی سرگرمی کا نام بن چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے نائٹ ٹائم اکانومی کو فروغ دینے کے لیے پالیسی سپورٹ، سہولیات کی بہتری اور سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ مقامی کاروباروں اور سیاحت کے شعبے کو پہنچ رہا ہے۔
ان مصروف اور متحرک علاقوں میں ایک نمایاں مقام ژونگ گوان کُن آرٹ پارک ہے جو بیجنگ کے ضلع ہائدیان میں واقع ہے۔ یہ علاقہ پہلے ہی ٹیکنالوجی اور جدت کا مرکز سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ رات کی معیشت میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پارک میں 70 سے زائد ریٹیل اور ڈائننگ آؤٹ لیٹس موجود ہیں، جہاں خریدار اور سیاح رات گئے تک خریداری اور تفریح سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہاں ثقافتی بوتیکس، خوشبو کی دکانیں، کھلونوں کی شاپس اور بین الاقوامی ٹرینڈی برانڈز کی ایک وسیع رینج دستیاب ہے۔ یہ مقام نوجوانوں، اور غیر ملکی سیاحوں سب کے لیے یکساں کشش رکھتا ہے۔
شہر کے دوسرے حصے میں واقع تونگژو ضلع بھی نائٹ ٹائم اکانومی کا ایک روشن ماڈل بن چکا ہے۔ یہاں دنیا کی طویل ترین مصنوعی آبی گزرگاہ، یعنی گرینڈ کینال، جو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے، رات کے وقت ایک نئے انداز میں زندگی پاتی ہے۔ گرینڈ کینال کے ساتھ ساتھ واقع نیو مون ریور ٹاؤن میں کھلے عام بازار کی گہما گہمی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس مارکیٹ کے فوڈ کورٹ میں چین بھر کے ذائقوں کی نمائندگی کرنے والے 100 سے زیادہ اسٹالز ہیں، جہاں موسمی اور علاقائی پکوان آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ کھانے کے ساتھ ساتھ ثقافتی زون، کھلونے، مجسمے اور اوپن ایئر پرفارمنسز اس علاقے کو ایک مکمل تفریحی مرکز بنا دیتے ہیں۔
بیجنگ میں نائٹ ٹائم اکانومی کا ایک اور مقبول مرکز سوولانا لائف اسٹائل شاپنگ پارک ہے، جو چھاؤ یانگ ڈسٹرکٹ میں لیانگما دریا کے کنارے واقع ہے۔ یہ مقام جدید شہری طرزِ زندگی کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ یہاں جھیل کے کنارے کے دلکش مناظر، ثقافتی سیاحت، خریداری، کیفے اور لوازمات سب ایک ہی جگہ پر یکجا نظر آتے ہیں جو رات کے وقت پانی میں روشن تنصیبات کے عکس کے ساتھ ایک خوب صورت منظر تخلیق کرتے ہیں، جو مقامی افراد اور سیاحوں دونوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام بیجنگ کی نائٹ لائف کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
چین میں مجموعی طور پر نائٹ ٹائم اکانومی کی مالیت اب سات ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے، جو اس شعبے کی وسعت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق، اس معیشت نے نہ صرف صارفین کے رویّوں کو بدلا ہے بلکہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ ریستوران، ٹرانسپورٹ، ثقافتی صنعتیں اور چھوٹے کاروبار سب اس ترقی سے مستفید ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نائٹ ٹائم اکانومی محض ایک معاشی رجحان نہیں بلکہ شہری زندگی کے تصور میں تبدیلی کی علامت ہے۔ بیجنگ جیسے بڑے شہر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر منصوبہ بندی اور انتظام درست ہو تو رات کو بھی شہر محفوظ، متحرک اور معاشی طور پر فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ چین اس ماڈل کو مزید وسعت دے گا جس سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ شہریوں کے معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.