بیجنگ :برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 28 سے 31 جنوری تک چین کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ آٹھ برس کے وقفے کے بعد کسی برطانوی وزیراعظم کا پہلا دورہ چین تھا۔ برطانیہ کے 48 گروپ کے چیئرمین جیک پیری نے حال ہی میں سی ایم جی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اسٹارمر کا یہ دورہ نہایت اہم ہے، اور برطانیہ و چین کو باہمی تعاون کے ذریعے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جیک پیری نے کہا کہ یورپ کے رہنما ایک کے بعد ایک چین کا رخ کر رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مواقع چین میں موجود ہیں، جبکہ چین کے لیے مواقع یورپ میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان مواقع کو قبول کر رہے ہیں اور واضح طور پر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق پورے یورپ میں، برطانیہ اور اس کی مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کو سب سے زیادہ وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری حاصل ہو رہی ہے۔ چین ٹیکنالوجی کے میدان میں صفِ اول پر ہے، خواہ وہ توانائی، کوانٹم ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت یا روبوٹکس کے شعبے ہوں۔ برطانیہ بڑے پیمانے پر تجارتی تعاون کے تحت چین کے ساتھ شراکت داری کر سکتا ہے۔
Trending
- بھارتی روپے کی قدر میں تاریخی کمی کے سامنے مودی کا بیانیہ زمیں بوس
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی