News Views Events
Apna Watan

حق مہر والی جائیداد پر قانونی چارہ جوئی سے گریز کیا جائے، عدالت

0


اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے زور دیا ہے کہ بطور حق مہر دی گئی جائیداد پر شوہر اور دوسرا شخص غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کریں۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ مہر کی جائیداد پر شوہر یا کسی دوسرے شخص کے حق سے متعلق نکاح نامہ میں علیحدہ کالم شامل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔

مہر سے متعلق تنازع کی سماعت کے دوران ڈویژن بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ شریک حصہ دار وراثتی حصہ سے زائد جائیداد کا انتقال نہیں کر سکتا، مشترکہ جائیداد کے حوالے سے مہر کا اعلان شوہر کے حصے اور نکاح نامہ پر دستخط کرنیوالے کے حصے کی حد تک درست ہے۔

زیر سماعت کیس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر نے نکاح کے وقت مکان بطور مہر دیا مگر تفصیلی وضاحت نہ کی،  مہر کے اعلامیہ کی شوہر اور اس کی والدہ کے بیان حلفی سے تائید ہوئی، وہ مکان شوہر کے والد کا تھا جس کا نکاح سے قبل انتقال ہو چکا تھا۔

اس لئے متنازع مکان بیوی جس کی دعویدار ہے، تمام شوہر اور والدہ سمیت قانونی وارثوں کو منتقل ہو چکا ہے، شوہر اور والدہ اپنا حصہ فروخت کر سکتے ہیں، پورا مکان نہیں۔

اسلامی قانون کے تحت مہر جائیداد کی شکل ہو سکتا ہے، مگر شوہر اس جائیداد کے انتقال کا حق ہونا چاہیے۔

جہاں جائیداد مشترکہ ہو،شوہر یا کوئی دوسرا شخص پوری جائیداد بطور حق مہر نہیں دے سکتے،نہ مشترکہ جائیداد میں اپنے حصے سے زائد کا انتقال کر سکتے ہیں۔ حصہ سے زائد کا انتقال غیر قانونی اور غیر موثر ہے۔



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.