News Views Events
Apna Watan

چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین کا انعقاد سپلائی چین کی تازہ ترین کامیابیوں کو دکھانے کا ایک اہم موقع ہے، چینی میڈیا

0

بیجنگ : (چائنا ڈیسک )دنیا کو جوڑیں، مستقبل کی تخلیق کریں” کے موضوع پر چوتھی چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو کا افتتاح بیجنگ کے چائنا انٹرنیشنل ایگزیبیشن سینٹر میں ہوا۔

یہ دنیا کی پہلی قومی سطح کی نمائش ہے جو سپلائی چین تعاون کے موضوع پر منعقد کی جاتی ہے، اور گزشتہ تین کامیاب ایکسپوز کے بعد یہ ایک مؤثر بین الاقوامی عوامی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آج جب دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں تیز ہو رہی ہیں، جغرافیائی تنازعات جاری ہیں، اور "ڈی کپلنگ ” کی آوازیں بلند ہیں،تو ایسے پیچیدہ پس منظر میں چوتھی چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو کا بروقت انعقاد نہ صرف عالمی صنعتی اور سپلائی چین کی تازہ ترین کامیابیوں کو دکھانے کا ایک اہم موقع ہے،بلکہ چین کی جانب سے اپنے عملی اقدامات کے ذریعے ایک غیر مستحکم دنیا کے لئے یقین دہانی کا اظہار، اور چین کے ساتھ "ڈی کپلنگ” کے بیانیے کا واضح جواب بھی ہے۔اس ایکسپو کی بنیادی اہمیت "چین ” میں مضمر ہے۔ یہ روایتی نمائشوں کی طرح محض مصنوعات کی نمائش تک محدود نہیں، بلکہ صنعتی ماحولیاتی نظام کا ایک مکمل منظرنامہ پیش کرتی ہے۔ اس سال کی ایکسپو میں "چھ بڑے صنعتی چین اور ایک سپلائی چین سروس ایریا” قائم کیا گیا ہے ، جو ڈیجیٹل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی، جدید مینوفیکچرنگ، صاف توانائی اور سبز زراعت جیسے کلیدی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے ۔ یہ ایکسپو سپلائی چین کے بالائی اور زیریں حصوں میں شامل اداروں اور چین سے منسلک کمپنیوں کو "ہاتھ ملا کر” مشترکہ طور پر نمائش میں حصہ لینے کا موقع دیتی ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق، نمائش میں 85 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 676 چینی اور غیر ملکی ادارے شریک ہیں۔ شرکاء میں دنیا کی فارچون 500 اور مختلف شعبوں کی نمایاں کمپنیوں کا تناسب 65 فیصد سے زیادہ ہے۔نمائش کنندگان کے ساتھ ان کی صنعتی اور سپلائی چین سے وابستہ شراکت دار کمپنیوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی طور پر شرکت کرنے والے اداروں کی تعداد 1200 سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ اس سطح کی صنعتی ہم آہنگی اور اعلیٰ درجے کی بین الاقوامی شمولیت عالمی صنعتی اور سپلائی چین میں باہمی انضمام کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے، اور اس حقیقت کو مضبوطی سے ثابت کرتی ہے کہ صنعتی اور سپلائی چین کی عالمی ترتیب مارکیٹ کے اصولوں اور کمپنیوں کے انتخاب کا مشترکہ نتیجہ ہے، اور اسے زبردستی توڑنا اقتصادی اصولوں کے خلاف ہے اور عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔ خاص طور پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ ایکسپو چین کے "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے ” کے پہلے سال میں منعقد ہو رہی ہے اور اس کا مرکزی موضوع نئے معیار کی پیداوار ی صلاحیتوں کی پرورش اور عالمی اشتراک پر مرکوز ہے۔نمائشی علاقوں میں ایک نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ "ڈیجیٹل ٹیکنالوجی چین ” کو "ڈیجیٹل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی چین ” میں ترقی دی گئی اور پہلی بار مصنوعی ذہانت کا خصوصی ایریا قائم کیا گیا۔ یہ تبدیلی چین اور حتیٰ کہ عالمی صنعتی تبدیلی کی تازہ ترین سمت کو ظاہر کرتی ہے ، یعنی مصنوعی ذہانت محض الگورتھمز سے حقیقی دنیا کی پیداواری قوت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اے آئی کے ذریعے نئی صنعت کاری کو بااختیار بنانے سے لے کر توانائی کی پیداوار اور تقسیم کے طریقوں کو تبدیل کرنے ، اور سرحد پار لاجسٹکس اور مالیاتی خدمات کو نئی شکل دینے تک، سپلائی چین ایکسپو نہ صرف جدید صنعتی نظام کی تعمیر میں چین کی تازہ ترین کامیابیوں کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے دنیا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور صنعتی تبدیلی کے فوائد سے استفادہ کر سکتی ہے۔ جب این ویڈیا ، انٹیل اور کالکوم جیسی بین الاقوامی بڑی کمپنیاں اور علی بابا جیسی چینی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے خصوصی نمائشی زون میں ایک ساتھ موجود ہوتی ہیں، تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ تکنیکی اختراع کے وسیع میدان میں بندش کا راستہ صرف خود کو محدود کرتا ہے، جبکہ کھلا تعاون ہی روشن مستقبل کی جانب جانے والا واحد راستہ ہے۔”دنیا کو جوڑیں، مستقبل کی تخلیق کریں” کے موضوع کو چوتھی بین الاقوامی سپلائی چین ایکسپو میں ایک مضبوط عملی بازگشت ملی ہے۔ یہ اب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایکسپو میں 160 سے زائد پہلی مرتبہ متعارف کرائی جانے والی نئی مصنوعات، نئی ٹیکنالوجیز اور نئے منصوبے” فارسٹ ایکسپو ” پلیٹ فارم کے ذریعے درست رسد اور طلب کی معلومات میں تبدیل ہو کر عالمی کاروباری کمپنیوں کے لیے ایکسپو میں براہ راست تعاون کرنے کا موقع فراہم کریں گے ۔ غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں ، سپلائی چین ایکسپو سب سے قیمتی اور نایاب اثاثہ فراہم کرتی ہے یعنی یقین دہانی اور تحفظ ۔ یہ ” چین” کو ذریعہ بنا کر دنیا کو بتاتی ہے کہ عالمی صنعتی اور سپلائی چین ” ڈی کپلنگ ” کی ” زیرو سم گیم ” نہیں، بلکہ ایک گہرے انضمام پر مبنی ہم نصیب معاشرہ ہے۔مشترکہ ترقی اور تعاون کے ذریعے ہی عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ چوتھی سپلائی چین ایکسپو نہ صرف مصنوعات کی نمائش کا ایک موقع فراہم کرتی ہے، بلکہ یہ اعتماد کا ایک پل بھی ہے۔ یہ دنیا کو واضح پیغام دیتی ہے کہ بین الاقوامی حالات جیسے بھی بدلیں ، چین کے کھلے پن کی پالیسی مزید وسیع ہوگی، اور چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر سپلائی چین کی "لچک” اور "روانی” کے ذریعے ایک زیادہ مضبوط، زیادہ فعال اور زیادہ پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.