یورپ میں شدید گرمی کے باوجود لوگ گھروں میں اے سی کیوں نہیں لگا سکتے؟
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دنیا کے کئی حصوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ایئرکنڈیشنر ایک عام ضرورت بن چکا ہے،
تاہم یورپ میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ اس سہولت سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ صرف موسم نہیں بلکہ متعدد قانونی، معاشی اور ثقافتی عوامل بھی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یورپ کے بیشتر تاریخی شہروں میں قدیم عمارتوں کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین نافذ ہیں۔ فرانس سمیت کئی ممالک میں تاریخی عمارتوں کی بیرونی ساخت میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کے باعث عمارتوں کے باہر اے سی یونٹ نصب کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
ایک اور اہم رکاوٹ کرایہ داری کا نظام ہے۔ جرمنی، آسٹریا اور دیگر یورپی ممالک میں آبادی کا بڑا حصہ کرائے کے گھروں میں رہتا ہے۔ ایسے حالات میں کرایہ داروں کو ایئرکنڈیشنر لگانے کے لیے مالک مکان کی منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ عارضی رہائش کے باعث وہ اس پر بھاری اخراجات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
بجلی کی بلند قیمتیں بھی یورپ میں اے سی کے محدود استعمال کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ شمالی امریکا کے مقابلے میں یورپی ممالک میں بجلی کافی مہنگی ہے، جس کے باعث ایئرکنڈیشنر چلانے کے اخراجات عام صارفین کے لیے خاصے زیادہ ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ یورپ میں روایتی طور پر ٹھنڈک حاصل کرنے کے دوسرے طریقوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ گھروں میں موٹے شٹر استعمال کرتے ہیں، دن کے اوقات میں کھڑکیاں بند رکھتے ہیں اور رات کے وقت ٹھنڈی ہوا کے لیے کھڑکیاں کھول دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ایئرکنڈیشنر کو ضروری سہولت نہیں سمجھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یورپ میں اے سی کی طلب طویل عرصے تک محدود رہی، اس لیے اسے نصب کرنے والے تربیت یافتہ ماہرین کی تعداد بھی کم ہے۔ نتیجتاً انسٹالیشن پر ہزاروں یورو خرچ آ سکتا ہے اور کئی مرتبہ مہینوں پہلے وقت لینا پڑتا ہے، جس سے یہ سہولت مزید مہنگی اور محدود ہو جاتی ہے۔
پی این پی
Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.