News Views Events
Apna Watan

دوست کیساتھ گاڑی میں جانے والی خاتون سے 6 افراد کی زیادتی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع کٹک میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر 6 افراد کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خاتون اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ گاڑی میں بھوبنیشور سے کیندرپاڑا جا رہی تھی کہ راستے میں ملزمان نے انہیں روک لیا۔ حملہ آوروں نے پہلے خاتون کے دوست کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی گئی۔ واقعے کے بعد ملزمان دونوں کو وہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ کٹک رورل کے ایس پی ونیٹ اگروال نے واقعے کی تفتیش کی ذمہ داری ڈی ایس پی رینک کے افسر کو سونپ دی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی مختلف ریاستوں میں خواتین اور کم عمر بچیوں کے خلاف جنسی تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جولائی میں مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے مبینہ اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔ اسی عرصے میں راجستھان میں 12 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر کئی افراد کی جانب سے متعدد روز تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کی خبر بھی سامنے آئی، جبکہ غازی آباد میں 7 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔

بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4 لاکھ 41 ہزار 534 مقدمات درج کیے گئے۔ یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں تقریباً 1.5 فیصد کم رہی، تاہم مجموعی تعداد اب بھی کافی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھارت میں ریپ کے 29 ہزار 536 مقدمات درج ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً 80 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں 28 ہزار 752 متاثرہ خواتین بالغ جبکہ 784 متاثرین کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔

اسی عرصے کے دوران ریپ یا اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے 266 مقدمات بھی درج کیے گئے، جو جنسی تشدد کے انتہائی سنگین واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے حوالے سے بھی اعداد و شمار تشویش کا باعث ہیں۔ 2024 میں پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسچوئل آفنسز ایکٹ (POCSO) کے تحت 69 ہزار 191 مقدمات درج کیے گئے، جو اس نوعیت کے مقدمات کی بلند ترین تعداد میں شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے باوجود جنسی تشدد کے حقیقی واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ سماجی دباؤ، بدنامی کا خوف، متاثرین کو ذمہ دار ٹھہرانے کا رجحان اور قانونی و پولیس نظام سے متعلق مشکلات کے باعث متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

پی این پی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.