News Views Events
Apna Watan

کارگو طیارہ حادثے کے بعد پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا تلاش و بچاؤ آپریشن جاری

0

کارگو طیارہ حادثے کے بعد پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے اورماڑہ کے قرب و جوار میں تلاش و بچاؤ کا آپریشن جاری ہے۔

سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاکستان نیوی کے بحری جہازوں کے علاوہ سی کنگ، ڈیفینڈر ہوائی جہاز اور نیول اے ٹی آر بھی حصہ لے رہے ہیں، جبکہ پاک بحریہ کے غوطہ خور مختلف مقامات پر زیرِ سمندر بھی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تلاش کا دائرہ ممکنہ مقام کے اطراف میں مزید 15 سے 20 ناٹیکل میل تک بڑھا دیا گیا ہے، تاہم طیارے میں سوار کاک پٹ عملے کے پانچ ارکان کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔

مواصلاتی رابطوں کے ذریعے سمندر میں موجود ماہی گیر لانچوں اور دیگر بحری جہازوں سے بھی شواہد کے حوالے سے رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق پاک بحریہ نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود بروقت سرچ اینڈ ریکوری آپریشن کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے۔

خراب موسم، شدید لہروں اور رات کی تاریکی کے باوجود پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ حادثے کا مقام تقریباً 3 ہزار میٹر  لگ بھگ 10 ہزار فٹ گہرائی سمندر میں واقع ہے، جس کے باعث ریکوری کا مرحلہ انتہائی پیچیدہ رہا، جبکہ گہرے سمندر میں سرچ آپریشن جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملبہ ملنے کا مقام طیارے کی حتمی موجودگی کی نشاندہی نہیں کرتا، کیونکہ سمندری لہریں، ہوائیں اور کرنٹس ملبے کو اصل مقام سے دور لے جا سکتے ہیں۔ طیارے کے درست مقام کے تعین کے لیے مزید جامع سرچ آپریشن درکار ہے۔

گہرے سمندر میں زیرِ آب تلاش دنیا کے پیچیدہ ترین آپریشنز میں شمار ہوتی ہے، جس کی مثال ایم ایچ 370 کی تلاش ہے، جہاں برسوں کی عالمی کوششوں کے باوجود طیارے کا ملبہ تاحال مکمل طور پر برآمد نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع کے مطابق پاک بحریہ نے بروقت اور مؤثر کارروائی سے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔

ذرائع کے مطابق سمندر میں موجود ٹیمیں سالویج، سرچ اور ریسکیو آپریشن بیک وقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گہرے سمندر سے ملنے والا بیشتر ملبہ بدقسمت طیارے کے پچھلے حصے کا تھا، جبکہ کاک پٹ وائس ریکارڈر اور بلیک باکس کی تلاش کے لیے آج بھی غوطہ خوروں نے انتہائی گہرائی میں سرچ آپریشن کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ گرنے والے طیارے کا فیوزلاج، کیبن اور دیگر حصے سمندر میں کہیں موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاک بحریہ اور میری ٹائم سیکیورٹی کے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سینٹر کی جانب سے ماہی گیروں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے، جبکہ جہاز گرنے کے مقام اور اوماڑہ کے قرب و جوار میں بسول نامی ساحلی مقام کے ماہی گیروں کو ضروری ہدایات بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ تلاش کا کام سونار، ریموٹ آپریٹڈ وہیکلز ٹیکنالوجی اور غوطہ خوروں کی مدد سے جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز گرنے سے قبل ریٹ آف ڈیسنٹ جس تیزی سے کم ہوا، اس کے باعث ملبے کے ایک ہی جگہ پر ملنے کے امکانات کم ہیں۔ تاہم اگر جہاز کا مکمل ملبہ مل جاتا ہے تو سمندری آپریشن کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی اور سمندر سے طیارے کے ڈھانچے کو نکالنے کے لیے لفٹنگ بیگز سمیت دیگر تکنیکی آپریشن کیے جائیں گے۔

 



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.