اسلام آباد(سٹاف رپورٹ )اسلام آباد میں عرب جمہوریہ مصر کا قومی دن شایانِ شان انداز میں منایا گیا۔ اس موقع پر سرینا ہوٹل میں مصر کے سفیر عزت مآب ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن نے ایک پروقار استقبالیہ دیا، جس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں ڈین آف دی ڈپلومیٹک کور، ترکمانستان کے سفیر عزت مآب اتاجان موولاموف، افریقی گروپ کے قائم مقام ڈین اور الجزائر کے سفیر عزت مآب ابراہیم رمانی سمیت مختلف ممالک کے سفرا، ہائی کمشنرز، سفارتکاروں اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
مصری سفیر ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں مصر کے قومی دن کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے اپنے ملک میں سماجی انصاف اور انسانی وقار کی بحالی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر آج ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
انہوں نے پاکستان اور مصر کے تعلقات کو کثیرالجہتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس میں وزرائے خارجہ کے باہمی دوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط اور متحرک بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مصری سفیر نے کہا کہ دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور مصر سفارت کاری اور مکالمے کو مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے شعبوں میں ٹھوس نتائج پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں اپنی تعیناتی کے دوران پاکستانی عوام کی مہمان نوازی اور خلوص کو سراہتے ہوئے اس پر دلی مسرت کا اظہار بھی کیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اپنے کلیدی خطاب میں پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات اور مستقبل کے امکانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے مصر کی حکومت اور عوام کو قومی دن کی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
جام کمال خان نے مصر کو عرب دنیا میں پاکستان کا ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک دفاع، عسکری تربیت اور فوجی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصر کے صدر عزت مآب عبدالفتاح السیسی نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے اور پاکستان ان کے دورے کا بے چینی سے منتظر ہے۔ وزیر تجارت نے ڈی-8 کانفرنس کے سلسلے میں قاہرہ کے اپنے دورے کی یادیں بھی حاضرین کے ساتھ شیئر کیں۔
انہوں نے بتایا کہ قاہرہ میں مصری حکام اور مختلف کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کے دوران دونوں جانب اس امر پر بھرپور جوش و جذبہ پایا گیا کہ باہمی مفاہمت کو صنعتی تعاون اور علاقائی روابط میں عملی شکل دی جائے۔ ان کے مطابق مصری کمپنیاں پاکستان میں رئیل اسٹیٹ، توانائی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تقریب اس مشترکہ وژن کی عکاس ہے جس کے تحت پاکستان اور مصر روایتی تجارت سے آگے بڑھتے ہوئے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کا اہم گیٹ وے ہے، جبکہ پاکستان جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کا ایک اہم مرکز ہے، اور دونوں ممالک اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر قومی دن کا کیک کاٹا گیا، جس کے بعد مہمانوں کی تواضع مصری کھانوں سے کی گئی۔