Salman Khan also spoke in favor of the Jantar Mantar protest.
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے نئی دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبا کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو جائز قرار دیا ہے۔ اداکار نے زور دیا کہ یہ معاملہ صرف طلبا اور تعلیمی نظام کے درمیان ہے، اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔
سلمان خان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ یہ احتجاج ابتدا میں نہایت پُرامن تھا، لیکن افسوس ہے کہ بعد میں اس نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ انہوں نے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طلبا اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دل ان تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔
اداکار نے کہا کہ امتحانی پرچہ لیک ہونا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے، تاہم انہیں خوشی ہے کہ ملک بھر کے نوجوان ایک بہتر اور شفاف تعلیمی نظام کے لیے متحد ہوئے ہیں۔ انہوں نے طلبا کے والدین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے بچوں کا ساتھ دیا۔
It was such a peaceful movement, feel so sad that it had to take a violent turn. My heart goes out to the students and their families who were hurt. Paper leak is a very serious issue, and I am glad to know n see that the kids of our country have come together for a better…
— Salman Khan (@BeingSalmanKhan) July 22, 2026
سلمان خان کے مطابق طلبا نے جس سنجیدگی، خلوص اور محنت سے اپنے مستقبل اور ایک بہتر، تعلیم یافتہ بھارت کے لیے آواز بلند کی ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا یہی پُرامن اور جمہوری طریقہ درست راستہ ہے اور نوجوانوں نے نہایت جرات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے لیے اس نسل کا جذبہ مستقبل میں ملک کا نام روشن کرے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اس معاملے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس تحریک کا اصل کریڈٹ صرف ان طلبہ کو ملنا چاہیے جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ سلمان خان نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مثبت اقدامات کرے گی، کیونکہ اس سے طلبہ اور ملک دونوں کو فائدہ ہوگا۔
اپنے پیغام کے اختتام پر سلمان خان نے کہا کہ تعلیم کو معاشرے میں ایک نئے رجحان اور فیشن کی حیثیت ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال تعلیم کی اہمیت مزید بڑھنی چاہیے، یہاں تک کہ دنیا بھر سے طلبا اعلیٰ تعلیم کے لیے بھارت کا رخ کریں اور ملک ایک عالمی تعلیمی مرکز بن جائے۔
احتجاج کا پس منظر
واضح رہے کہ نئی دہلی کے جنتر منتر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے طلبا اور سماجی کارکن تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور اس کے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں جاری ہے، جبکہ معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک بھی اس مہم کی حمایت میں طویل بھوک ہڑتال کر چکے ہیں۔
احتجاج کرنے والے طلبا کا مؤقف ہے کہ NEET سمیت مختلف امتحانات میں مبینہ پرچہ لیک اور بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبا کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ مظاہرین اس معاملے پر شفاف تحقیقات، ذمے داروں کے خلاف کارروائی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سمیت تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، گرفتاریاں اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد یہ معاملہ بھارت بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
پی این پی