بیجنگ: امریکی محکمہ برائے اندرونی سلامتی نے 40 سے زائد چینی اداروں کو ‘ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر کہا کہ امریکی عمل کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہے، اور یہ اقتصادی دباؤ کی ایک عام مثال ہے۔ انہو ں نےکہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں ہوا جب چینی اور امریکی تجارتی سربراہان نے ویڈیو کال کی، اور دونوں جانب سے تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے پر کھلی، گہری اور تعمیری بات چیت کی گئی۔ ٹھیک ایک دن بعد، امریکا کی جانب سے ایسااقدام کیا گیا جو چینی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ یہ عمل دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کے منافی ہے اور چین اس کی شدید مذمت اور سخت مخالفت کرتا ہے۔چینی وزارت تجارت کےترجمان نے کہا کہ چین نےہمیشہ جبری مشقت کی مخالفت کی ہے۔ اس وقت سنکیانگ میں معاشرتی ہم آہنگی اور استحکام ہے، معیشت ترقی کر رہی ہے، اور کسی بھی شکل کی ‘جبری مشقت’ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چین امریکہ سے فوراً سنکیانگ کو بدنام کرنے اور چینی کمپنیوں پر بلاجواز دباؤ بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ضروری اقدامات کرے گا اور چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا۔
Trending
- مسلم لیگ (ق) ہیومن رائٹس ونگ کا اہم اجلاس، تنظیم سازی اور عوامی شکایات کے حل پر غور
- ایلیگزینڈر زیوریو نے پہلی مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل جیت لیا
- گزشتہ سال نافذ ہونے والا نیا وائیڈ بال قانون کیا ہے؟ ثناء میر نے وضاحت کردی
- مریم نواز کا بیٹی کے نکاح پر شاہانہ لُک توجہ کا مرکز، جانیے لباس کی خاص تفصیلات
- ملک میں آج بھی سونا سستا ہو گیا
- 72 سالہ ملائیشین فٹبال لیجنڈ نے 20 سالہ لڑکی سے شادی کرلی
- چین مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے اندرونی اور ضمنی خطرات پر خاص توجہ دیتا ہے، چینی وزارت خارجہ
- جب اے آئی دنیا کو “لکھنے” لگے: ہم ایک بےآواز علمی جنگ کے سامنے کھڑے ہیں
- فلپائن کے چین کی حدود میں نام نہاد سمندری دائرہ اختیار کے دعوے غیر قانونی ہیں، چینی وزارت خارجہ
- جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے تائیوان سے متعلق بیانات اور اقدامات چین-جاپان تعلقات کاسب سے بڑا مسئلہ ہیں، چینی وزارت خارجہ