بیجنگ: امریکی محکمہ برائے اندرونی سلامتی نے 40 سے زائد چینی اداروں کو ‘ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر کہا کہ امریکی عمل کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہے، اور یہ اقتصادی دباؤ کی ایک عام مثال ہے۔ انہو ں نےکہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں ہوا جب چینی اور امریکی تجارتی سربراہان نے ویڈیو کال کی، اور دونوں جانب سے تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے پر کھلی، گہری اور تعمیری بات چیت کی گئی۔ ٹھیک ایک دن بعد، امریکا کی جانب سے ایسااقدام کیا گیا جو چینی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ یہ عمل دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کے منافی ہے اور چین اس کی شدید مذمت اور سخت مخالفت کرتا ہے۔چینی وزارت تجارت کےترجمان نے کہا کہ چین نےہمیشہ جبری مشقت کی مخالفت کی ہے۔ اس وقت سنکیانگ میں معاشرتی ہم آہنگی اور استحکام ہے، معیشت ترقی کر رہی ہے، اور کسی بھی شکل کی ‘جبری مشقت’ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چین امریکہ سے فوراً سنکیانگ کو بدنام کرنے اور چینی کمپنیوں پر بلاجواز دباؤ بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ضروری اقدامات کرے گا اور چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا۔
Trending
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
- اگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاں