امریکہ کا حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے سے متعلق معاہدے کا دعویٰ، اسرائیل کا “سنگین سکیورٹی خدشات” کا اظہار
امریکہ کی جانب سے حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی سے انخلا سے متعلق معاہدے کے اعلان پر اسرائیل نے اس حوالے سے اپنے سنگین سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیلمین نے 2 اگست کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کے بارے میں اپنے شدید تحفظات سے وائٹ ہاؤس کو آگاہ کر چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے سے قبل اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے انخلا نہیں کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کے اعلان کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر کھل کر عوامی مؤقف اختیار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل اس معاہدے پر پہلے ہی متعدد تحفظات کا اظہار کر چکا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے رکن اور توانائی کے وزیر ایلی کوہن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق نہیں کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ میں “مکمل غیر مسلح کرنے کے معاہدے” پر کوئی باضابطہ غور بھی نہیں کیا گیا۔