بیجنگ : (چائنا ڈیسک ) چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ننانویں یوم تاسیس (یکم اگست) سے عین قبل ، سی سی ٹی وی پر ایک فلم سیریز ” دی روڈ ٹو وکٹری ” نشر ہوئی ۔ اس کی چھ اقساط میں بری فوج کی اصلاح و ترقی سے لے کر بحری فوج کی گہرے نیلے پانیوں تک رسائی ، فضائی فوج کی فضا و خلا میں برتریوں سے لے کر راکٹ فورس کے ڈونگ فینگ میزائلوں کی گرج تک، اور آخر کار مشترکہ جنگی کارروائی اور نظامی برتری پر مبنی جنگی حکمت عملی ،یہ سب مل کر چینی فوج کے مختلف شعبوں کی جنگی تیاریوں کی ایک وسیع اور شاندار تصویر پیش کرتے ہیں۔اس فلم کا بنیادی پیغام بالکل واضح ہے۔ چینی فوج کا اپنی طاقت دکھانا کبھی بھی کوئی جنگی نعرہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ دفاعی طاقت سے جنگ روکنے کا ایک اعلان ہے۔ دفاعی طاقت کے مناظر جتنے زیادہ واضح ہیں اتنا ہی یہ بھی واضح ہے کہ چین کی خواہش جنگ کو ملک کی سرحدوں سے باہر ہی روکنا ہے۔جدید چین کا سب سے دردناک سبق یہ تھا کہ غربت اور کمزوری کے باعث وہ دوسروں کے رحم و کرم پر تھا۔ افیم کی جنگوں سے لے کر جاپانی جارحیت تک، ملک کے ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ وطن کا دفاع کرنے کی طاقت کی کمزوری تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ چینی فوج کے قیام سے ہی اس کی شناخت وطن کی حفاظت اور ملک کی پاسبانی ہے۔ یہ فوج تاریخ کی ان فوجوں جیسی نہیں ہے جو نوآبادیاتی چڑھائی، توپوں والے بحری جہازوں کی سفارت کاری اور بیرونی لوٹ مار سے اپنا وجود ثابت کرتی تھیں بلکہ چینی فوج کا جھنڈا ہمیشہ سرحدوں، سمندری حدود، فضائی دفاع اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جانب ہی رہا ہے ۔چین بار بار دفاعی نوعیت کی فوجی پالیسی کا ذکر کرتا ہے،یہ محض سفارتی الفاظ نہیں ہیں۔ چین کے دفاعی محکمے نے کئی بار واضح کیا ہے کہ چین کی فوجی طاقت کا فروغ مکمل طور پر قومی اقتدارِ اعلیٰ، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، اور یہ دنیا میں امن اور استحکام کی طاقت ہے۔اسی طرح ایٹمی طاقت کو قومی سلامتی کی ضرورت کے کم از کم درجے پر رکھا گیا ہے اور چین اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا ۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی بڑی طاقت واقعی جارحیت کی منطق پر عمل کرتی ہو ، تو وہ “فعال دفاع” اور “اگر دوسرے ہم پر حملہ نہیں کریں گے تو ہم بھی دوسروں پر حملہ نہیں کریں گے” کو اپنی اسٹریٹجک بنیاد نہیں بنائے گی، اور نہ ہی اپنے دفاعی اخراجات کو طویل عرصے تک جی ڈی پی تناسب سے دنیا کی بڑی طاقتوں کی اوسط سطح سے نیچے رہنے دے گی ۔اس کے باوجود امریکہ و مغربی ممالک چین کی دفاعی صلاحیتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں ۔ امریکی دفاعی محکمے کی سالانہ رپورٹ بغیر ثبوت کے قیاس آرائیاں کرتی ہے، نیٹو اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے، اور مغربی تھنک ٹینک ڈونگ فینگ میزائلوں اور بحیرہ جنوبی چین میں چینی بحری فوج کے گشت کو جوڑ کر چین کی طرف سے خطرے کا نقشہ بناتے ہیں ۔ان کا طریقِہ کار بہت یکساں ہے: سب سے پہلے، چینی فوج کی معمول کی جدید کاری پہلے سے “موجودہ صورتحال کو بدلنے” کے طور پر بیان کی جاتی ہے اور پھر اسے “محدود کرنا ضروری ہے”کا نتیجہ نکالا جاتا ہے ۔مگر وہ ایک بنیادی حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں۔ کس کے پاس دنیا بھر میں سینکڑوں اوورسیز فوجی اڈے ہیں؟ کون سالہا سال سے ایئر کرافٹ کیریئر گروپوں کو دوسروں کے دروازے تک لے جا کر دھونس دکھاتا ہے؟ کون تائیوان کو اسلحہ بیچنے میں “ریڈ لائن ” عبور کرتا ہے اور ایشیا بحرالکاہل میں اربوں ڈالر کا “پیسفک ڈیٹرنس پلان” چلا رہا ہے؟ یعنی خود تو گن پاؤڈر لیے دنیا بھر میں آگ لگا ئی جائے اور پھر آگ بجھانے والوں پر الزام لگایا جائے کہ تمہاری آگ زیادہ تیز ہے ۔اسے دوہرا معیار نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے ؟یہاں ایک بہت سیدھی سادی منطق ہے۔ جنگ پسند قوتیں عام طور پر اپنی طاقت کا کھلے عام اظہار نہیں کرتیں ،بلکہ اچانک حملوں ،خفیہ تعیناتیوں اور پراکسی جنگوں کے ذریعے جنگوں کا خرچہ دوسروں پر ڈالنا زیادہ پسند کرتی ہیں ۔ جبکہ چین اپنی فوج کے یوم تاسیس پر مشقوں کی تصویریں واضح طور پر دکھاتاہے ، تو اس کا مطلب جنگ کو روکنا ہے اور چھوٹے بڑے بدنیتوں کو متنبہ کرنا ہےکہ وہ ناجائز خواب چھوڑ دیں۔فلم ” دی روڈ ٹو وکٹری ” میں پہلی بار دکھائے گئے مناظر کا پیغام صرف ایک جملہ ہے: جو تم دیکھ رہے ہو وہی تمہیں ہوش میں لانے کے لیے کافی ہے؛ جو تم نہیں دیکھ رہے، اس پر جوا نہ کھیلو۔چین کے قدیم لوگ کہتے تھے کہ جنگ و تشدد کو روکنا ہی اصل طاقت ہے۔چینی فوج کے ذہن میں فتح کا نظریہ کبھی یہ نہیں رہا کہ دوسرے کے دارالحکومت تک پہنچو، بلکہ یہ ہے کہ دشمن کو کارروائی کرنے سے پہلے قیمت کا اندازہ لگانے پر مجبور کرو ، تاکہ وہ کوئی حرکت کرنے کی ہمت نہ کرے۔آج کی دنیا پرامن نہیں، اور چین کو کئی سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں ۔ تائیوان کے امور میں “امریکہ کے سہارےعلیحدگی کی کوششیں ” اور تائیوان کے ذریعے چین پر قابو پانے ” کی سوچ رکھنے والی قوتیں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر سازش کر رہی ہیں؛بحیرہ جنوبی چین میں بیرونی طاقتیں اپنی موجودگی بڑھانا اور علاقائی تصادم کوبھڑکانا چاہتی ہیں ،خلا، سائبر، برقی مقناطیسی جیسے نئے میدانوں میں اصول ابھی مستحکم نہیں مگر مقابلہ شروع ہو چکا ہے۔ایسے ماحول میں فوج کو مضبوط کرنا، نظام کو مربوط رکھنا ، اور اپنی صلاحیتیں دنیا کو دکھانا جنگ پسندی نہیں بلکہ اپنے عوام اور علاقائی استحکام کے لیے ایک ذمہ داری ہے ۔ ایک کمزور چین خطے میں مہم جو عناصر کی حوصلہ افزائی کا باعث ہو گا جبکہ ایک مضبوط چین ہی خطے میں چند دہائیوں سے بڑی جنگ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔چین نے اپنی ۹۹ سالہ فوجی تاریخ سے ثابت کیا ہے کہ جتنی زیادہ فوجی طاقت، اتنا زیادہ سرحد پر سکون ،ڈھال جتنی مضبوط، تلوار اتنی دور۔اگر امریکہ و مغرب کو واقعی امن کی فکر ہے، تو انہیں چینی فوج کو اپنی اسٹریٹجک پریشانیوں کا عکس بنانا چھوڑنا چاہیے، اور فلم ” دی روڈ ٹو وکٹری ” کے پیچھے چھپے پیغام کو پڑھنا چاہیے کہ ہم طاقت دکھاتے ہیں تاکہ تم آؤ ہی نہ؛ ہم جنگ کی تیاری کرتے ہیں تاکہ جنگ کبھی نہ لڑنی پڑے۔ دفاعی طاقت سے جنگ روکنا، ہمیشہ سے چینی فوج کا مقصد رہا ہے، اور یہی اصول ایک مہذب دنیا میں طاقت کے استعمال کی کم از کم بنیاد ہونا چاہیے۔
Trending
- ورلڈ جوجِٹسو چیمپئن شپ میں پاکستان نے 2 گولڈ اور ایک برونز میڈل جیت لیا
- آزاد کشمیر انتخابات: حلقہ ایل اے 27 مظفرآباد ون میں پولنگ ملتوی
- فلم “دی روڈ ٹو وکٹری کے پیچھے چینی فوج کی جنگ کو روکنے کی منطق
- چین کی الیکٹرانک انفارمیشن مینوفیکچرنگ صنعت کی آمدن میں 18.5 فیصد اضافہ بیجنگ :چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کی پہلی ششماہی میں ملک کی الیکٹرانک انفارمیشن مینوفیکچرنگ صنعت نے تیز رفتار ترقی کا سلسلہ برقرار رکھا۔ پیداوار میں اضافہ، برآمدات میں استحکام، کاروباری منافع میں مسلسل بہتری اور سرمایہ کاری میں متوازن نمو ریکارڈ کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق، مقررہ حجم سے بالا الیکٹرانک انفارمیشن مینوفیکچرنگ اداروں کی صنعتی پیداوار میں 14.8 فیصد اضافہ ہوا۔اہم مصنوعات میں صنعتی روبوٹس کی پیداوار 5 لاکھ 38 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جو سال بہ سال 28 فیصد زیادہ ہے، جبکہ نیو انرجی گاڑیوں کی پیداوار 73 لاکھ 99 ہزار رہی، جس میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پہلی ششماہی میں الیکٹرانک انفارمیشن مصنوعات کی برآمدات میں بھی مستحکم بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس شعبے کی برآمدی ترسیلات کی مجموعی مالیت میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا، جو جنوری تا مئی کے مقابلے میں 1.7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ اسی دوران الیکٹرانک انفارمیشن صنعت کی مجموعی کاروباری آمدن 9.41 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی نسبت 18.5 فیصد زیادہ ہے، اور اس شعبے کی مسلسل مضبوط اقتصادی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔
- چین کی سمندری معیشت کی مستحکم ترقی ریکارڈ
- چین میں خوبصورت دیہی علاقوں کی تعمیر کا کامیاب آغاز
- امریکہ کا حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے سے متعلق معاہدے کا دعویٰ، اسرائیل کا “سنگین سکیورٹی خدشات” کا اظہار
- بھارت کی بڑی دوا ساز کمپنی نے آلودگی کے خدشات پر 10 اقسام کے آئی ڈراپس واپس منگوا لیے
- مالی سال 26-2025ء میں نجی شعبے کو دیے قرض میں 15فیصد اضافہ ہوا: خرم شہزاد
- کراچی میں گیس کی بو پھیلنے کی شکایات پر سوئی سدرن کمپنی کا بیان سامنے آگیا