بیجنگ:کوہِ تھیان شان کے دامن میں واقع شہر بشکیک شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی 25ویں سالگرہ کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ آج جب دنیا کو گروہ بندیوں، محاذ آرائی، ٹیکنالوجی کی بندشوں اور ترقی کے بڑھتے ہوئے خلا جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا عملی طریقہ کار باہمی تعاون کا ایک ایسا ماڈل فراہم کرتا ہے جو ترقی پذیر ممالک کے لیے لائقِ تقلید اور قابلِ عمل ہے۔ اس ماڈل کا جوہر”باہمی اعتماد، باہمی فائدے، مساوات، مشاورت، متنوع تہذیبوں کا احترام، اور مشترکہ ترقی کی جستجو” پر مبنی شنگھائی سپرٹ ہے ۔ گزشتہ 25 سالوں میں، شنگھائی تعاون تنظیم چھ بانی ممبران سے بڑھ کر ایشیا، یورپ اور افریقہ پر محیط تعاون کا ایک بڑا خاندان بن گئی ہے جس میں 27 شریک فریق اور دنیا کی تقریباً نصف آبادی شامل ہے، اور 50 سے زیادہ شعبوں میں تعاون کے منصوبوں کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ حقیقی دنیا کے اعداد و شمار اس تصور کی اہمیت کو ثابت کرتے ہیں۔
مساوی مشاورت اس ماڈل کا پہلا بنیادی اصول ہے۔ بشکیک سمٹ میں دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک اور چاروں طرف سے خشکی میں گھرے چھوٹے ممالک ایک ساتھ بیٹھے ہیں، اور ہر رکن ریاست کی آواز برابر ہے۔ اہم فیصلے بڑی طاقتوں کے بجائے تمام فریقوں کے اتفاق رائے سے کئے جاتے ہیں۔ اپنے رکن ممالک کے وسائل کے مختلف ہونے، متنوع سماجی نظاموں اور مذہبی ثقافتوں کے پیش نظر، شنگھائی سپرٹ نے اپنی مرکزی اقدار میں “متنوع تہذیبوں کے احترام” کو شامل کیا ہے اور نظریاتی خطوط کھینچنے سے انکار کیا ہے اور کبھی اپنا نظام دوسرے ممالک پر مسلط نہیں کیا۔ حال ہی میں جاری کردہ ایس سی او رکن ممالک کی یوتھ فوکس ٹرینڈز رپورٹ” کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ نوجوان جواب دہندگان کا خیال ہے کہ ایس سی او تعاون سے ان کے ممالک کو ٹھوس فوائد حاصل ہوئے ہیں، اور عوامی سطح پر یہ اعتراف مساوی بات چیت کا نتیجہ ہے۔
عملی ترقی اس ماڈل کا دوسرا بنیادی اصول ہے۔ اعداد و شمارکے مطابق 2025 میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اشیا کا مجموعی تجارتی حجم 8.9 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو ایس سی او کے قیام کے آغاز کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ چین کا سالانہ تجارتی حجم 520 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے اور خطے میں چین کی سرمایہ کاری 84 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ چین-یورپ مال بردار ٹرین سروس کے تحت، اب تک 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد ٹرینیں چلائی جا چکی ہیں۔ چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے، جو موجودہ سمٹ کا ایک اہم مرکزہے، وسطی ایشیا کے اندرون ممالک اور بیرونی دنیا کے درمیان لاجسٹک چینلز کو مزید مضبوط کرے گا۔ بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں سے لے کر ہیلتھ ایکسپریس انٹرنیشنل برائٹنس جرنی”تک، باہمی تعاون کے ثمرات حقیقت میں عام آدمی کی دہلیز تک پہنچے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کھوکھلی سفارتی بیان بازی کے بجائے ہمیشہ عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
تصادم کے بغیر سیکیورٹی کا مشترکہ دفاع اس ماڈل کی تیسری بنیادی خصوصیت ہے۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوران، ایس سی او نے علاقائی انسداد دہشت گردی کے ادارے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے پلیٹ فارمز قائم کیے ہیں اور انسداد دہشت گردی کی دس سے زائد بار مشترکہ مشقوں کا اہتمام کیا ہے ، اس کے نتیجے میں ماضی میں تنازعات کی شکار سرحدیں امن اور تعاون کی علامت بن گئیں اور دہشت گردی اور بین الاقوامی جرائم کی روک تھام ممکن ہوئی۔ حالیہ برسوں میں، ایس سی او نے انسدادِ منشیات اور سائبر سیکیورٹی کے لیے پیشہ ورانہ مراکز بھی قائم کیے ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی تعاون کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم تنظیم نے کبھی بھی جارحانہ فوجی اتحاد کی شکل اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنایا، بلکہ مشترکہ خطرات پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے سلامتی اور معاشی بقائے باہمی کو آگے بڑھایا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے تجربے نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر خطرات ختم نہیں کیے جا سکتے۔ معاشی پسماندگی ہی عدم استحکام کا باعث بنتی ہے جبکہ پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ممالک کی یکساں معاشی ترقی ناگزیر ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے عملی ڈھانچے کی تشکیل تین بنیادی اصول کرتے ہیں، جبکہ صدر شی جن پھنگ کی پیش کردہ گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹوکے ساتھ ساتھ سمٹ سے قبل ایک قریبی ہم نصیب ایس سی او برادری کی تعمیر کی تجویز، شنگھائی سپرٹ کے عین مطابق ہیں اور تنظیم کی طویل مدتی ترقی کے لیے فکری توانائی فراہم کرتے ہیں۔ اس کا مقصد پہلے سے طر شدہ نظام رائج کرنا نہیں بلکہ مساوی خود مختاری، جامع ترقی، مشترکہ سلامتی، اور تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھنے کے تصورات کو کثیر الجہتی تعاون میں ضم کرناہے، تاکہ ایس سی او ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کا مؤثر دفاع کر سکے۔
اس وقت، عالمی گورننس کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ بڑھ رہا ہےاور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو عالمی سطح پر اپنے بیانیے کے لیے زیادہ حقوق کی ضرورت ہے۔ 25 سال کی آزمائشوں اور امتحانات کے بعد، بشکیک سربراہی اجلاس ایک نئے تاریخی نقطہ آغاز پر کھڑا ہے۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے سمٹ کے موقع پر اپنے دستخط شدہ مضمون میں نشاندہی کی ہے کہ تمام فریقین کو شنگھائی سپرٹ کو آگے بڑھانا چاہیے اورایک قریبی ایس سی او ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینا چاہیے۔ تقسیم اور بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی سے دوچار دنیا کے پیش نظر، ایس سی او نے ٹھوس تعاون کی کامیابیوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ برابری پر مبنی مشاورت، جامعیت، باہمی سیکھنے اور عملی جیت پر مبنی تعاون ہی کثیرالجہتی نظام کے حقیقی اور کامیاب راستے ہیں۔ یہ ماڈل “طاقتور کے غلبے” اور “تہذیبوں کے ناگزیر تصادم” کی پرانی سوچ کو رد کرتے ہوئے آج کی غیر مستحکم دنیا کو یوریشین خطے کی طرف سے دانشمندانہ رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور اختلافات بھلا کر مشترکہ ترقی کے ذریعے عالمی نظم و نسق کو بہتر بنانے کا پختہ یقین دلاتا ہے۔
Trending
- مائیکل وان کی پاکستانی بیٹنگ پر کڑی تنقید، دوسرے درجے کی کاؤنٹی ٹیم سے تشبیہ دے دی
- امریکا ایران کشیدگی میں اضافے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- بشکیک سمٹ: شنگھائی سپرٹ ، ترقی پذیر ممالک کے لیے تعاون کا نمونہ کیسے بنی؟
- ‘So-Called Coaches Are Poison for the Game’: Mohammad Yousuf Slams National Cricketers’ Technique
- 2026 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی افرادی و ثقافتی تبادلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد
- چین، گیرونگ سرحدی بندرگاہ کے علاقے میں مواصلاتی سگنلز کی بحالی
- چینی صدر اور کرغزستان کے صدر کے درمیان دوستانہ تبادلۂ خیال
- اگست میں چین کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری
- روس نے یوکرین مذاکرات میں پیشگی شرائط نہ ہونے کا اعلان کردیا
- پمز اسپتال میں انتظامی عہدوں پر نئی تقرریوں کے احکامات جاری
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔