News Views Events
Apna Watan

بے قابو اے آئی ایجنٹس نے امریکی سرکاری ویب سائٹس پر حملے شروع کر دیے

واشنگٹن (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ایجنٹس سے متعلق ایسے واقعات سامنے آئے ہیں

جن میں ان سسٹمز نے امریکی حکومت کے مختلف اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی۔ کمپنی کے مطابق بعض ایجنٹس نے ویب پر معلومات تلاش کرنے کے دوران مقررہ حدود سے تجاوز کیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کے ایک گروپ نے امریکی حکومتی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی، جسے کمپنی نے اپنے تجربات کے دوران پیدا ہونے والی ’’مس الائنمنٹ‘‘ کی مثال قرار دیا ہے۔ اے آئی کی صنعت میں یہ اصطلاح ایسے رویے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سسٹم کے متوقع یا مقررہ طرزِ عمل سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ ویب سائٹس میں امریکی محکمہ تجارت اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے متعلق پلیٹ فارمز بھی شامل تھے۔ کمپنی کے مطابق اس معاملے میں ایجنٹس نے جارحانہ انداز میں ویب براؤزنگ کی اور بعض حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے دنیا بھر کے درجنوں اداروں کو اس حوالے سے آگاہ کیا کہ اس کے اے آئی ایجنٹس نے ممکنہ طور پر نامناسب انداز میں ان کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان سسٹمز نے حکومتوں، جامعات، سرکاری اداروں اور دیگر تنظیموں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

اوپن اے آئی کے مطابق ان سرگرمیوں میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، مردم شماری بیورو اور محکمہ تعلیم سے متعلق ویب سائٹس بھی شامل تھیں۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ ایجنٹس کو بنیادی طور پر عوامی معلومات کے معتبر ذرائع تلاش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم بعض سسٹمز اس مقصد سے آگے بڑھ گئے۔

کمپنی کے مطابق مردم شماری بیورو سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کے دوران بعض ایجنٹس نے ایسے ٹولز استعمال کیے جو عموماً سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ اوپن اے آئی نے کہا کہ اس عمل میں حاصل کیا جانے والا حکومتی ڈیٹا عوامی نوعیت کا تھا۔

تاہم سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے حاصل ہونے والی کچھ معلومات بعد میں ایک دوسری ویب سائٹ پر شائع کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اوپن اے آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عمل جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزے نے بھی چند روز قبل بتایا تھا کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس نے ان کی حکومت کے زیر انتظام صحت کے نظام کی ویب سائٹ پر موجود غیر عوامی فائلوں تک رسائی حاصل کی تھی۔

اوپن اے آئی نے جمعے کو اے آئی ایجنٹس سے متعلق مزید واقعات کی تفصیلات بھی جاری کیں۔ کمپنی کے مطابق بعض کیسز میں ایجنٹس نے ایسا ڈیٹا بھی منتقل کیا جسے انہیں منتقل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ایسے کم از کم 53 واقعات کی نشاندہی کی گئی جن میں کسی ایجنٹ نے چیٹ جی پی ٹی صارف کی سرگرمی سے حاصل کردہ تصویر کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا۔

کمپنی نے واضح کیا کہ جن صارفین کی تصاویر اس عمل میں استعمال ہوئیں، انہوں نے پہلے ہی اوپن اے آئی کو اپنے ڈیٹا کو ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ تاہم اوپن اے آئی نے تسلیم کیا کہ اس اجازت کے باوجود تصاویر کو اس انداز میں منتقل کرنا ڈیٹا کا مناسب استعمال نہیں تھا۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ واقعات اس عرصے میں پیش آئے جب اے آئی ٹریننگ کے لیے نئے حفاظتی اقدامات مکمل طور پر نافذ نہیں کیے گئے تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام صارفین کی تصاویر کو ہٹانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو کسی تیسرے فریق تک منتقل ہوئی تھیں۔

کمپنی نے بتایا کہ جولائی میں ہگنگ فیس کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد اس نوعیت کے خطرات پر زیادہ توجہ دی گئی۔ اس واقعے میں اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر بغیر واضح ہدایت کے اے آئی ڈویلپر پلیٹ فارم ہگنگ فیس تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔

ہگنگ فیس نے سب سے پہلے اس واقعے کی اطلاع عوامی سطح پر دی، جس کے بعد اوپن اے آئی نے بھی اس کی ذمہ داری تسلیم کی۔ ہگنگ فیس کے سربراہ کلیمنٹ ڈیلانگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ معاملہ سامنے نہ آتا تو اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ اس نوعیت کے بعض دیگر واقعات بھی کئی ماہ قبل اے آئی کی معروف لیبارٹریز میں نگرانی کے بغیر خفیہ طور پر پیش آ رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے اسی اجلاس کے دوران اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹ مین اور اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ معیارات وضع کیے جائیں۔ دونوں نے اے آئی سے متعلق ایسے واقعات کی نگرانی، دستاویز بندی اور بروقت رپورٹنگ کے لیے مؤثر نظام تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پی این پی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.