وسط مدتی انتخابات میں شکست ہوئی تو ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے زیادہ مائل ہو سکتے ہیں، امریکی حکام

امریکی ذرائع کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو صدر ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا حکم دینے کے لیے مزید مائل ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اسی دن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے فون پر بات کی۔ چند روز قبل انہوں نے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے متبادل منصوبوں پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں سینئر فوجی کمانڈرزکے ساتھ بند کمرے میں ایک میٹنگ کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ خلیجی عرب ریاستوں کے تین سینئر عہدیداروں نے 30 اکتوبر کو انکشاف کیا کہ امریکی حکومت نے اپنے خلیجی اتحادیوں کو ایران کے خلاف "مختصر لیکن شدید” حملے کی تیاری کرنے کی ضرورت سے آگاہ کر دیا ہے اور یہ حملہ 4 نومبر کو ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ کے خلیجی اتحادی ایران کی طرف سے ممکنہ انتقامی اقدامات کے خوف میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مصروف ہیں۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے یکم نومبر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنے قانون کے مطابق برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو "دہشت گرد تنظیمیں ” قرار دیا ہے۔


