امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ 2023 میں امریکہ کی جانب سے غیر ملکی حکومتوں کو فروخت کیے جانے والے فوجی سازوسامان کی مالیت 16 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 238 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسی دن تقریبا 20 امریکی ڈیموکریٹس پر مشتمل پارلیمانی اتحاد نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنے کے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کے بارے میں باضابطہ وضاحت اور مخصوص معلومات فراہم کریں۔پارلیمانی اتحاد کا کہنا تھا کہ کانگریس اسلحے کی فروخت یا منتقلی کی نگرانی کرتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ اسلحے کی فروخت یا منتقلی انسانی اصولوں اور امریکی قانون کے مطابق ہے یا نہیں، اور کیا یہ امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے یا نہیں۔ قانون سازوں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہنگامی اعلانات کے ذریعے کانگریس کی نگرانی کو نظر انداز کرنا انتہائی بے قاعدہ بات ہے جبکہ ہنگامی قومی اختیارات کے استعمال سے امریکی حکومت کی اسلحے کی فروخت کا جائزہ لینے کی ذمہ داری معاف نہیں کی جا سکتی۔
Trending
- shopkeepers fixed tax – ایکسپریس اردو
- درآمدی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان، ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
- بجٹ عوام دوست نہیں، حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا تحفظات کا اظہار
- بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا خاتمہ تاریخی ریلیف ہے: وفاقی وزیرِ بحری امور
- وفاقی بجٹ: ٹرانسپورٹ شعبے سے متعلق ٹیکس اور ڈیوٹی میں تبدیلیوں کی تجاویز پیش
- فیفا ورلڈکپ: میکیسکن ٹیم کے گول پر اسٹیڈیم میں موجود صدر کا جشن، ویڈیو وائرل
- حکومتی بجٹ عوام کیلیے غیرسود مند، کراچی کو نظر انداز کیا گیا، چیمبر آف کامرس
- شاہی خاندان کی بہو شوہر کی محبوبہ کی فائرنگ سے زخمی
- ایران اور امریکا کے درمیان حتمی مسودے پر اتفاق ہوچکا، وزیراعظم
- ابھیشیک شرما اور ماہرہ شرما کے درمیان رومانوی تعلقات کی افواہیں گرم