امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ 2023 میں امریکہ کی جانب سے غیر ملکی حکومتوں کو فروخت کیے جانے والے فوجی سازوسامان کی مالیت 16 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 238 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسی دن تقریبا 20 امریکی ڈیموکریٹس پر مشتمل پارلیمانی اتحاد نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنے کے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کے بارے میں باضابطہ وضاحت اور مخصوص معلومات فراہم کریں۔پارلیمانی اتحاد کا کہنا تھا کہ کانگریس اسلحے کی فروخت یا منتقلی کی نگرانی کرتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ اسلحے کی فروخت یا منتقلی انسانی اصولوں اور امریکی قانون کے مطابق ہے یا نہیں، اور کیا یہ امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے یا نہیں۔ قانون سازوں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہنگامی اعلانات کے ذریعے کانگریس کی نگرانی کو نظر انداز کرنا انتہائی بے قاعدہ بات ہے جبکہ ہنگامی قومی اختیارات کے استعمال سے امریکی حکومت کی اسلحے کی فروخت کا جائزہ لینے کی ذمہ داری معاف نہیں کی جا سکتی۔
Trending
- پیپلز بس سروس کا نیا روٹ، شرجیل میمن نے خوش خبری سنادی
- ڈوپنگ ایشو پر قومی ریسلر انعام بٹ کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان
- سلمان خان دکھی کیوں ہیں؟ اداکار کی پراسرار پوسٹ وائرل
- اسلام آباد میں پاکستان ٹورازم اینڈ ہاسپیٹیلٹی ایکسپو 10 اکتوبر سے شروع ہوگی
- کراچی میں ہنڈی حوالہ کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایک کروڑ 8 لاکھ روپے برآمد
- فتح جنگ میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی کارروائیاں، متعدد دکانداروں کو جرمانے اور وارننگ
- دورہ انگلینڈ کے بعد پاکستانی کرکٹرز کی وطن واپسی، رضا اللہ کا ایئرپورٹ پر شاندار استقبال
- امیتابھ بچن نے ریٹائرمنٹ کی خبروں کی وضاحت کردی
- عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری
- سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات