امریکہ اور برطانیہ نے یمن میں کئی مقامات پر حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ یہ حوثیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کا جواب ہے۔
یہ 12 جنوری کے بعد سے حوثیوں کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کا چوتھا مشترکہ آپریشن ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا کہ انہوں نے یمن میں آٹھ مقامات پر حوثیوں کے 18 ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں جن میں زیر زمین ہتھیار اور میزائل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، ریڈار اور ایک ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ فضائی حملوں کا مقصد حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے مشترکہ فضائی حملوں کے نئے دور کے جواب میں حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ جارحیت ہے اور حوثی امریکہ اور برطانیہ کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا مقابلہ کریں گے اور دشمن کے اہداف کے خلاف مزید معیاری فوجی کارروائی کریں گے۔
گذشتہ سال 7 اکتوبر کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان نئے تنازعے کے آغاز کے فوراً بعد ہی حوثیوں نے بحیرہ احمر کے پانیوں میں اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے شروع کر دیے تھے۔ رواں سال 12 جنوری سے امریکہ اور برطانیہ حوثیوں کے ٹھکانوں پر مسلسل فضائی حملے کر چکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔
Trending
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ
- ارجنٹینا کے لیجنڈ میراڈونا کی موت کا معمہ، کیس کی دوبارہ سماعت کا فیصلہ
- سیکیورٹی اداروں کی کارروائی؛ بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے والے 3 افراد گرفتار
- قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کی کینسر سے متاثر بچوں سے ملاقات
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم