ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ایران کے پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ شام میں ایرانی سفارت خانے کے قونصلر دفتر کی عمارت پر اسرائیل کے فضائی حملے میں سات ایرانی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ شام میں ایران کے سفیر حسین اکبری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فضائی حملے کے وقت وہ سفارت خانے کی مرکزی عمارت میں موجود تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں ایرانی سفارت خانے کے قونصلر سیکشن پر اسرائیلی فضائی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول میں اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کے کسی بھی اصول کی پاسداری نہیں کی ۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام میں ایرانی سفارت خانے کے قونصلر دفتر کی عمارت پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے اور اسرائیل کے خلاف اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ناصر کنعانی نے کہا کہ ایران جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ حسین عبد اللہیان نے شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ المقداد اورحسین ابراہیم طحہ نے اسرائیل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی حکومت اور عوام سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ یکم اپریل کو شام، عراق اور اردن کی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بیانات جاری کیےہیں۔
Trending
- پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے شیڈول کا اعلان، کئی قومی کرکٹر ایکشن میں نظر آئیں گے
- مومنہ کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں پیار ہو گیا تھا، ثاقب چدھڑ کا نیا انکشاف
- کیش لیس اکانومی کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ
- چین نے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیے
- چینی صدر 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے، وزارت خارجہ
- بحری جہاز میں آتشزدگی کے واقعے میں لاپتا افراد کے بچاؤ کی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے، چینی صدر
- چین اور امریکا رواں سال دونوں سربراہانِ مملکت کے باہمی روابط کے انتظامات پر رابطے میں ہیں ، چینی وزارتِ خارجہ
- چین نیپال کی ضروریات کے مطابق آفت کے بعد بحالی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا خواہاں
- عالمی عوامی تحفظ انڈیکس رپورٹ جاری، چین پہلے نمبر پر رہا
- ایران کے جوہری مسئلے کا حل سیاسی و سفارتی راستہ ہی ہے،چین