سولہ اپریل کو جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنا دورہ چین مکمل کیا۔ چین کے اس دورے کے حوالے سے جرمن میڈیا نے تبصرہ کیا ہے کہ شولز کے حالیہ دورہ چین نے جرمن معیشت کے لیے ایک اہم دروازہ کھولا ہے۔
جرمن میڈیا آر این ڈی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ جرمن چانسلر شولز کے دورہ چین کا بنیادی موضوع تجارتی پالیسی تھا، اور ان کے ساتھ ایک بڑا تجارتی وفد بھی تھا، جو اس خواہش کا ظہار ہے کہ چین میں جرمن سرمایہ کاری کو مزید تقویت ملے گی۔ جرمن چانسلر کے ساتھ چین کا سفر کرنے والے کاروباری رہنماؤں کو امید ہے کہ یہ سفر ان کے "لیول پلیئنگ فیلڈ” کو وسعت دے گا، اور جرمن کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے لیے مزید بہتر حالات پیدا ہوں گے۔
جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹرئیر کی ایک ماہر سائنس گو سٹنگ نے جرمن میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ جرمنی چین سے بعض اہم ٹیکنالوجیز خصوصاً مکینیکل پرزوں کا ایک اہم درآمد کنندہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمنی اور مجموعی طور پر یورپ بھی چینی مصنوعات جیسے الیکٹرک گاڑیاں، شمسی آلات اور بیٹریوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہیں۔ ان شعبوں میں چین اور جرمنی کی اقتصادی سرگرمیاں ایک دوسرے پر منحصر ہیں، اور یہ انحصار جدید بین الاقوامی تعلقات کا معمول ہے۔
Trending
- Tentative dates for the 2027 ODI World Cup announced
- اسٹیٹ بینک نے 2026 سے 2029ء کے لیے پہلا ریسرچ ایجنڈا جاری کر دیا
- فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا کراچی میں بڑا اقدام
- پاکستان ؛ قرعہ اندازی میں کروڑ پتی بننے والے خوش نصیبوں کا اعلان
- ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل فیفا عالمی رینکنگ میں ارجنٹینا ایک بار پھر پہلی پوزیشن پر آگیا
- سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی؛ چند دنوں میں 38 ہزار روپے فی تولہ سستا ہوگیا
- آئندہ مالی سال کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سمیت اہم نکات سامنے آگئے
- FIFA World Cup 2026 The most expensive but controversial tournament in history
- مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کیلئے آخری تاریخ کا اعلان
- ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینئر بن گئے