ہنگری کے وزیر عظم وکٹر اوربان نے ہنگری کے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہنگری نیٹو کی جانب سے یوکرین کی کسی بھی معاونت کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین تنازعہ کی موجودہ صورتحال کے مطابق مستقبل میں روس کی جانب سے نیٹو پر حملہ ناممکن ہے۔ اس لئے روس کے مغرب کو دھمکی دینے کے بارے میں بیانات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس اور نیٹو کی ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
اوربان نے کہا کہ ہنگری نیٹو کے تحت یوکرین کی مالی یا فوجی معاونت کا حصہ نہیں بنے گا۔ نیٹو کے قیام کا ابتدائی مقصد دفاعی یونین ہے۔ اس لئے ہنگری کی جانب سے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ نیٹو کی رکنیت برقرار رکھتے ہوئے یوکرین میں نیٹو کی فوجی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے۔
Trending
- ملک میں ایک تولہ سونے کا بھاؤ 100 روپے کم ہوگیا
- شاداب خان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دوسری ہیٹ ٹرک
- جاپان میں بیسویں ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب کا انعقاد
- امن مشنز کو مزید حقیقت پسندانہ، موثر اور پائیدار بنانے کے لیے تیارہیں ،چین
- 41 سال کی عمر میں حمل: ماہرہ خان کو ’بوڑھی خاتون‘ کہنے پر ٹی وی چینل شدید تنقید کی زد میں
- انگولا اور چین کے درمیان تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں، اسپیکر انگولا
- نام نہاد رضاکارانہ برآمدی پابندیاں ڈبلیو ٹی او کے قوانین اور مارکیٹ کی معیشت کے اصولوں اور منصفانہ مسابقت کی خلاف ورزی ہیں، چینی وزارت تجارت
- چین امریکہ اقتصادی و تجارتی مذاکرات کا اگلا دور 19 سے 23 ستمبر تک امریکہ میں ہو گا
- پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور وسیع تر سرمایہ تشکیل کی جانب گامزن ہے، وزیر خزانہ
- ایشین گیمز: منیبہ علی والدہ کی علالت کے باعث ٹیم چھوڑ کر وطن واپس آگئیں