وینیز ویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہے کہ وینزویلا کے عوام اپنی قیادت منتخب کرنے کا فیصلہ خود کرتے ہیں اور امریکہ کو وینزویلا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت بند کرنی چاہیے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں مادورو نے کہا کہ ابھی کچھ آئینی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کی تکمیل باقی ہے ، لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس وینزویلا کے صدارتی انتخابات کا مکمل ریکارڈ اور ثبوت موجود ہیں۔
قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے "زبردست شواہد” کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اپوزیشن اتحاد یو ایف ڈی آر کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز 28 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔
مادورو نے کہا کہ انتخابی نظام پر شدید حملہ کیا گیا ہے۔ نتیجتاً 31 جولائی کو انہوں نے سپریم کورٹ کے الیکٹورل ڈویژن میں ایک مقدمہ دائر کیا، جس میں کہا گیا کہ صدارتی انتخابات کے نتائج کی تصدیق کی جائے تاکہ متعلقہ حقائق واضح ہو سکیں۔
وینزویلا میں 28 جولائی کو صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 10 امیدواروں نے حصہ لیا۔ وینزویلا کے قومی انتخابی کمیشن نے 29 جولائی کی علی الصبح اعلان کیا کہ حکمراں گرینڈ پیٹریاٹک الائنس کے امیدوار اور موجودہ صدر نکولس مادورو دوبارہ صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
Trending
- خطے کی بہتر ہوتی صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کا بلندی پر پہنچا دیا، سونا بھی سستا
- مئی میں دشمن پاکستان کی طاقت اور ہنر مندی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا، ایئر چیف مارشل
- پاکستان عالمی معاشی دباؤ کے باوجود مستحکم ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
- فیلڈ مارشل کا وفد کے ہمراہ ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل
- فتح جنگ میں رات 10 بجے کے بعد شادی ہال کی خلاف ورزی، 2 لاکھ جرمانہ، ہال سیل اور مقدمہ درج
- پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں بڑا اضافہ
- خطے میں کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا فضائی آپریشن بتدریج بحال ہونا شروع
- جاپانی حکومت کے خلاف ہزاروں جاپانی شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلی
- چینی صارفین کو جدید ترین اور بہترین مصنوعات کی فراہمی
- امریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل