میکسیکو کے صدر آندریس لوپیز نے کہا ہے کہ میکسیکو میں تعینات امریکی سفیر سالازار کی جانب سے چند روز قبل میکسیکو کی عدالتی اصلاحات کے حوالے سے دیے گئے ریمارکس کے ردعمل میں میکسیکو نے امریکی سفارت خانے کے ساتھ تعلقات معطل کر دیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق لوپیز نے اسی دن ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سالازار نے حال ہی میں میکسیکو کی حکومت کی جانب سے فروغ دی جانے والی عدالتی اصلاحات پر تنقید کی ، لہذا میکسیکو نے امریکی سفارت خانے کے ساتھ تعلقات کو “معطل” کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔لوپیز نے نے کہا کہ امریکہ کو میکسیکو کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے اور یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے۔ لوپیز نے یہ بھی کہا کہ میکسیکو امریکی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات برقرار رکھے گا۔
سالازار نے 22 تاریخ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میکسیکو حکومت کی طرف سے نافذ کردہ عدالتی اصلاحات کے اقدامات “جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالیں گے” اور “شمالی امریکہ کے معاشی انضمام کو کمزور کریں گے۔ لوپیز نے جواب دیا ہے کہ سالازار کے الفاظ اور اقدامات “لاپرواہی” اور “افسوسناک” ہیں، جو امریکہ کی دیرینہ “مداخلت پسندانہ پالیسی” کی عکاسی کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتی اصلاحات میں 20 اصلاحاتی اقدامات شامل ہیں جن میں ججوں کا انتخاب اور محکموں کا انضمام شامل ہے۔ لوپیز کا ماننا ہے کہ ان اصلاحات سے بدعنوانی کے خلاف لڑنے اور انصاف کے نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
Trending
- ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ترقی پذیر معیشتوں کیلیے اہم موقع ہیں، بلال بن ثاقب
- پنجاب حکومت کا نالہ لئی کے لیے خصوصی فورس تشکیل دینے کا فیصلہ
- ورلڈ الٹمیٹ اتھلیٹکس جیولن مقابلوں میں پاکستان کے ارشد ندیم کل ایکشن میں ہوں گے
- امیشا پٹیل کے گھر سے لاکھوں کے زیورات چوری، ملازمہ گرفتار
- گیس سیکٹر کا 3600 ارب روپے گردشی قرضہ 3 سال میں ختم کرنے کا پلان
- سعودی سول تنصیبات پر حملے علاقائی امن کیلیے خطرہ قرار؛ پاکستان کی شدید مذمت
- محمد عباس نے لیجنڈ وسیم اکرم کا 27 سال پرانا ریکارڈ برابر کردیا
- سلمان خان کو دہلی ہائی کورٹ سے کیس میں بڑا ریلیف مل گیا
- مہنگائی تلے دبے عوام پر نیا بوجھ، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
- صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال