اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر حملہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امن دستوں کو تنازعے کے تمام فریقوں کی طرف سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔ روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیلی فوج کی جانب سے یو این آئی ایف آئی ایل کیمپ پر حملے پر برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ مصر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کے لیے ضمانت فراہم کرنی چاہیے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ اسرائیل کا یو این آئی ایف آئی ایل کے امن دستوں پر حملہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ فرانس اس کی مذمت کرتا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم سانچیز نے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیلی حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرے۔ اٹلی کی وزیر اعظم میلونی نے کہا کہ یہ واقعہ اٹلی کے لئے ناقابل قبول ہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی ہے۔مذکورہ بالا تینوں ممالک کے رہنماؤں نے 11 تاریخ کو ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا جس میں یو این آئی ایف آئی ایل کے امن دستوں پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی۔
مقامی وقت کے مطابق 11 اکتوبر کو نکاراگوا کی حکومت نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں اسرائیلی حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں فلسطین اسرائیل تنازعے کے نئے دور کے آغاز کے بعد سے متعدد ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ترکیہ نے بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر سکتا ہے۔
Trending
- ہینڈ شیک تنازع کرکٹ سے نکل کر ٹینس کورٹ تک جا پہنچا
- ٹک ٹاکر جنت مرزا کی عید پر گوشت پیکنگ کی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی
- یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑنے والے کو ایک کروڑ ڈالر انعام کی پیشکش
- سہ فریقی سیریز: پاکستان ویمنز ٹیم پہلا میچ جمعہ کو ویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلے گی
- راولپنڈی میں اراضی تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا جاں بحق
- چین میں خوابوں کی تکمیل کے متلاشی پاکستانی کاروباریوں کی سرحد پار گرمجوش کہانیاں
- خیبر پختونخوا؛ چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ سے اختلافات کی تردید کردی
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- "تائیوان کی علیحدگی” کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- چین، امریکہ محصولات مذاکرات میں پیش رفت