مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا بنیادی حصہ ہے، شی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو نا چا ہئے، شی جن پھنگ
بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا بنیادی حصہ ہے اور بین الاقوامی عدل و انصاف سے متعلق ہے۔ اس وقت ہماری اولین ترجیح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل اور مؤثر طریقے سے عمل درآمد، جنگ بندی اور لڑائی کو جلد از جلد ختم کرنا اور خطے میں صورتحال کو آسان بنانا ہے۔بد ھ کے روز چینی صدر نے اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ اس بات کا بنیادی راستہ یہ ہے کہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد کیا جائے، مسئلہ فلسطین کے سیاسی تصفیے کو فروغ دیا جائے، 1967 ء کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو ۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ مقصد کی بھرپور حمایت کی ہے، اتحاد کو مضبوط بنانے میں تمام فلسطینی دھڑوں کی حمایت کی ہے، تقسیم کے خاتمے اور فلسطینی قومی اتحاد کو مضبوط بنانے سے متعلق بیجنگ اعلامیے پر عمل درآمد کیا ہے اور داخلی مصالحت حاصل کی ہے۔ چین فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن بنانے اور ایک بڑی، زیادہ مستند اور زیادہ موثر بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ چین مسئلہ فلسطین کے جلد، جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
Trending
- خطے کی بہتر ہوتی صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کا بلندی پر پہنچا دیا، سونا بھی سستا
- مئی میں دشمن پاکستان کی طاقت اور ہنر مندی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا، ایئر چیف مارشل
- پاکستان عالمی معاشی دباؤ کے باوجود مستحکم ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
- فیلڈ مارشل کا وفد کے ہمراہ ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل
- فتح جنگ میں رات 10 بجے کے بعد شادی ہال کی خلاف ورزی، 2 لاکھ جرمانہ، ہال سیل اور مقدمہ درج
- پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں بڑا اضافہ
- خطے میں کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا فضائی آپریشن بتدریج بحال ہونا شروع
- جاپانی حکومت کے خلاف ہزاروں جاپانی شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلی
- چینی صارفین کو جدید ترین اور بہترین مصنوعات کی فراہمی
- امریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل