بیجنگ(شِنہوا)چینی صدر شی جن پھنگ نے کمبوڈین پیپلز پارٹی (سی پی پی) اور سینیٹ کے صدر سمدیچ ٹیکو ہن سین سے بیجنگ میں ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دوستی کو مستحکم کرنے کے لئے باہمی تعاون پر زور دیا۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین نے کمبوڈیا کو ہمیشہ ہمسائیگی کی سفارتکاری میں ہمیشہ ایک اعلیٰ ترجیح کے طور پر دیکھا ہے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل اعلیٰ معیار کے چین-کمبوڈیا معاشرے کی تعمیر کے لئے کمبوڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
چینی صدر نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ترقی کے حصول کے لئے تبادلوں اور باہم سیکھنے کے عمل کو مضبوط کریں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں فریقوں کو باہمی تعاون میں نئی پیشرفت کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ چین "ڈائمنڈ ہیکساگون” تعاون کے لائحہ عمل کو مسلسل فروغ دینے اور اہم تعاون کے منصوبوں کے موثر نفاذ کو فروغ دینے کے لئے کمبوڈیا کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔
اس موقع پر کمبوڈیا کی پیپلز پارٹی (سی پی پی) اور سینیٹ کے صدر سمدیچ ٹیکو ہن سین نے کہا کہ کمبوڈیا اور چین کی دوستی تاریخ اور وقت کی آزمائش پر پورا اتری ہے۔ انہوں نے کمبوڈیا کی سیاسی ، معاشی اور سماجی ترقی میں گرانقدر حمایت اور مدد پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا چین کے ساتھ جماعتی سطح پر تبادلوں کو جامع طور پر مضبوط بنانے، سیاسی باہمی اعتماد کو گہرا کرنے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دینے، نوجوانوں اور ثقافتی تبادلوں کو بڑھانے اور بین الاقوامی اور علاقائی امور پر چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ
Next Post