جنوبی کوریا کی حکمراں جماعت کے رہنما ہان ڈونگ ہون نے کہا کہ صدر یون سوک یول نے تصدیق کی ہے کہ ان کا جلد عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یون سوک یول کا مواخذہ ہی اس وقت واحد راستہ ہے۔
ہان ڈونگ ہون نے کہا کہ صدر سمیت مارشل لاء میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور یون سوک یول کے لئے فوری طور پر ریاستی امور چلانے کا اختیار ختم کرنا چاہیے جس میں فوج کی کمان کا حق بھی شامل ہے۔ ہان ڈونگ ہون نے مزید کہا کہ وہ مواخذے کی تحریک کے حق میں ووٹ دیں گے اور حکمراں جماعت کے قانون سازوں کو اپنے ضمیر کے مطابق مواخذے کی تحریک پر ووٹ دینا چاہیے۔ اسی دن جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ “ایمرجنسی مارشل لاء” کوئی “شہری بدامنی” ہے اور ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعتوں کو قومی اسمبلی کو یرغمال بنانے اور سرکاری اہلکاروں کے مواخذے کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن