جنوبی کوریا کی حکمراں جماعت کے رہنما ہان ڈونگ ہون نے کہا کہ صدر یون سوک یول نے تصدیق کی ہے کہ ان کا جلد عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یون سوک یول کا مواخذہ ہی اس وقت واحد راستہ ہے۔
ہان ڈونگ ہون نے کہا کہ صدر سمیت مارشل لاء میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور یون سوک یول کے لئے فوری طور پر ریاستی امور چلانے کا اختیار ختم کرنا چاہیے جس میں فوج کی کمان کا حق بھی شامل ہے۔ ہان ڈونگ ہون نے مزید کہا کہ وہ مواخذے کی تحریک کے حق میں ووٹ دیں گے اور حکمراں جماعت کے قانون سازوں کو اپنے ضمیر کے مطابق مواخذے کی تحریک پر ووٹ دینا چاہیے۔ اسی دن جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ "ایمرجنسی مارشل لاء” کوئی "شہری بدامنی” ہے اور ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعتوں کو قومی اسمبلی کو یرغمال بنانے اور سرکاری اہلکاروں کے مواخذے کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
Trending
- کراچی؛ اسکول میں آتشزدگی کے دوران وین جل کر مکمل خاکستر، ڈرائیور زخمی
- پاکستان کی فارما صنعت ترقی کی نئی بلندیوں کی جانب گامزن
- جنگ کے دوران پاکستان کی ہوابازی کے شعبے میں شاندار کردار
- مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
- کیلاش کمیونٹی میں کزن میرج پر پابندی کا بل تیار
- سونا عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت بھی کم
- مولانا فضل الرحمان کی شاہد آفریدی سے ملاقات، سیاسی و سماجی صورتحال پر تبادلہ خیال
- سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر اعتماد برقرار
- بحیرہ عرب میں سیکیورٹی اداروں کا مشترکہ آپریشن،20 کروڑ روپے مالیت کی غیرملکی شراب ضبط
- فیفا نے ایران کے میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی