جنیوا (شِنہوا) ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے صدر بورج برینڈے نے شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں چین کی معیشت کے حوالے سے وسطی اور طویل مدت کے لئے پرامید ہوں۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں سوموار کو شروع ہونے والے ڈبلیو ای ایف کے سالانہ اجلاس سے قبل انہوں نے تسلیم کیا کہ چین کی معیشت کو کچھ قلیل مدتی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چینی حکومت نے مقامی کھپت کو تحریک دینے کے لیے اقدامات متعارف کرائے ہیں جس نے معیشت کو مئوثر طریقے سے فروغ دیا ہے۔
برینڈے نے چین کے مضبوط انسانی وسائل کو اس کے طویل مدتی اقتصادی امکانات میں ایک اہم عنصر کے طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 برسوں میں ایک کروڑ سے زائد یونیورسٹی گریجویٹس چین کو ہنر اور علم کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فائدہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ علم اور ہنر کو دیکھیں تو یہ مستقبل کی بنیاد ہے۔
افرادی قوت کے چیلنجزکےحوالےسے بات کرتے ہوئےبرینڈے نے یقین ظاہر کیا کہ چینی حکومت کے پاس سکڑتی ہوئی افرادی قوت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے کافی پالیسی معاونت موجود ہے ۔
قومی ادارہ شماریات کے مطابق چین کی جی ڈی پی 2024 میں گزشتہ سال کی نسبت 5 فیصد بڑھی جو کہ حکومت کے مکمل سال کے ہدف کو پورا کرتی ہے۔
برینڈے نے کہا کہ عالمی سطح پر وبا کے بعد کے دور میں دیگر ممالک میں پیداوار کی منتقلی سمیت ہونے والی تبدیلیوں کے باوجود چین کی غیر ملکی تجارت نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے ۔
Trending
- پنجاب حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، صوبائی محکموں میں 101 آسامیاں ختم
- مچل اسٹارک ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین لیفٹ آرم بولر بن گئے
- روی کشن کے وائرل میمز سے اہلیہ بھی پریشان، اداکار کو گھر میں بند کرنے کی دھمکی دے دی
- کراچی؛ ڈیڑھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل، ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
- کھیلوں کے مختلف میدانوں سے سورج گرہن کی تصویری جھلکیاں
- نک جونس کی بھارتی کھانوں سے محبت، پریانکا چوپڑا سے بھی زیادہ دیسی نکلے
- کراچی؛ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، دو ڈاکو ہلاک
- والد کی وفات پر میسی کا جذباتی پیغام، ریٹائرمنٹ کا عندیہ دے دیا
- خواتین سے متعلق متنازع بیان پر شہود علوی کی وضاحت
- سونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں 7 دن کے بعد قیمت کم ہو گئی