روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم کیف حکومت کے موجودہ رہنما نے مذاکرات پر پابندی کا حکم نامہ جاری کیا تھا، لہٰذا اگر روس اور یوکرین موجودہ قانون کے دائرے میں مذاکرات کرتے ہیں تو یہ مذاکرات غیر قانونی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ پیوٹن کا ماننا ہے کہ جب تک اس حکم نامے کو منسوخ نہیں کیا جاتا تب تک سنجیدہ مذاکرات کرنا کافی مشکل ہوگا۔
روسی صڈر نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کسی بھی شعبے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ مقامی وقت کے مطابق 23 جنوری کو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کے تنازع کے حل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جلد از جلد ملاقات کرنا چاہتے ہیں ۔
Trending
- ایشین گیمز میں میڈل حاصل کرنے کیلیے پرامید ہیں، صاحبزادہ فرحان
- انگلش کرکٹر روٹ نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا
- کوہاٹ پولیس لائنز حملہ؛ دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ مل گیا
- وائٹ ہاؤس میں مختلف حلقوں سے وابستہ شخصیات کا صدر شی کا گرمجوشی سے استقبال
- پی ایچ ایف اور پاکستان میں گوگل کے مقامی پارٹنر کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
- ایل این جی کی قیمت میں 21 فیصد سے زائد کی کمی
- فرانس کا سعودی عرب کی بندرگاہ کی حفاظت کیلئے فوجی دستے بھیجنے کا اعلان
- پاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئے
- چین، شینزو 23 کے عملے کی خلاءسے وسط خزاں تہوار پر نیک خواہشات
- سی ایم جی مڈ آٹم فیسٹیول گالا 2026 کے پروگراموں کی فہرست جاری