روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم کیف حکومت کے موجودہ رہنما نے مذاکرات پر پابندی کا حکم نامہ جاری کیا تھا، لہٰذا اگر روس اور یوکرین موجودہ قانون کے دائرے میں مذاکرات کرتے ہیں تو یہ مذاکرات غیر قانونی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ پیوٹن کا ماننا ہے کہ جب تک اس حکم نامے کو منسوخ نہیں کیا جاتا تب تک سنجیدہ مذاکرات کرنا کافی مشکل ہوگا۔
روسی صڈر نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کسی بھی شعبے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ مقامی وقت کے مطابق 23 جنوری کو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کے تنازع کے حل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جلد از جلد ملاقات کرنا چاہتے ہیں ۔
Trending
- چین کا 15واں پانچ سالہ بجلی منصوبہ جاری، 2030 تک سبز توانائی کا نظام قائم کرنے کا ہدف
- چینی انڈیکسز اور اثاثوں کے عالمی اثر و رسوخ میں مزید اضافہ کیا جائے گا، چائنا سیکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن
- “چینی اسٹائل کی ٹھنڈک” نے عالمی موسمِ گرما کی کھپت کا نقشہ ہی بدل دیا، چینی میڈیا
- جاپان اور امریکہ کی مشترکہ مداخلت بھی جاپانی ین کی گرتی ہوئی قدر کو نہیں روک سکتی، رپورٹ
- ملک میں سونے کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں
- ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے
- ورلڈ جوجِٹسو چیمپئن شپ میں پاکستان نے 2 گولڈ اور ایک برونز میڈل جیت لیا
- آزاد کشمیر انتخابات: حلقہ ایل اے 27 مظفرآباد ون میں پولنگ ملتوی
- فلم “دی روڈ ٹو وکٹری کے پیچھے چینی فوج کی جنگ کو روکنے کی منطق
- چین کی الیکٹرانک انفارمیشن مینوفیکچرنگ صنعت کی آمدن میں 18.5 فیصد اضافہ