روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم کیف حکومت کے موجودہ رہنما نے مذاکرات پر پابندی کا حکم نامہ جاری کیا تھا، لہٰذا اگر روس اور یوکرین موجودہ قانون کے دائرے میں مذاکرات کرتے ہیں تو یہ مذاکرات غیر قانونی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ پیوٹن کا ماننا ہے کہ جب تک اس حکم نامے کو منسوخ نہیں کیا جاتا تب تک سنجیدہ مذاکرات کرنا کافی مشکل ہوگا۔
روسی صڈر نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کسی بھی شعبے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ مقامی وقت کے مطابق 23 جنوری کو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کے تنازع کے حل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جلد از جلد ملاقات کرنا چاہتے ہیں ۔
Trending
- سونے کی قیمتوں میں 2 روزہ وقفے کے بعد اضافہ، چاندی بھی مزید مہنگی
- پشاور؛ سی ٹی ڈی کی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں مطلوب دو دہشتگرد ہلاک
- کراچی سے ایک دو بندے اٹھانے کی دیر ہے پتہ چل جائے گا 100 ارب باہر کیسے منتقل ہوئے، وزیر داخلہ
- امریکا،ایران کشیدگی خاتمے کیلیے پاکستانی ثالثی کی دنیا معترف
- متحدہ عرب امارات کو رواں ماہ بروقت قرض کی ادائیگی کیلئے انتظامات مکمل
- پاکستان، ترکیہ، سعودیہ اور مصری حکام کا اجلاس، نئے 4 فریقی اتحاد کے ڈھانچے کی حتمی تجاویز تیار
- جو میرے نصیب میں ہوگا مل کر رہے گا، ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں؛ بابراعظم
- عمران خان سے بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات
- پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے اسکلز اینڈ فٹنس کیمپ کے لیے 25 رکنی اسکواڈ کا اعلان
- فضا علی لائیو شو میں شوہر کیساتھ غیراخلاقی حرکت پر مشکل میں پھنس گئیں