امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے کے آخر میں پانامہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ پانامہ کے صدر مولینو نے کہا کہ وہ روبیو کے ساتھ ملاقات میں پانامہ نہر کے کنٹرول کے معاملے پر بات چیت نہیں کریں گے۔ نہ ہی متعلقہ مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پانامہ نہر ، پانامہ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، ہماری نہر مسلسل وسیع ہو رہی ہے، جو دنیا کے لیے منصفانہ خدمات فراہم کر رہی ہے اور عالمی تجارت کے توازن کو یقینی بنا رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ روبیو فروری کے آغاز میں پانامہ کا دورہ کرنے اور پانامہ نہر کے معائنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل، امریکی صدر ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ پانامہ نہر ایک "امریکی اہم قومی اثاثہ” ہے، اور امریکہ پانامہ سے اس نہر کی واپسی” کا مطالبہ کر سکتا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے فوجی اقدامات کے استعمال سے بھی انکار نہیں کیا۔ روبیو نے 30 تاریخ کو دعویٰ کیا کہ پانامہ نہر کا کنٹرول حاصل کرنا "امریکہ کے مفادات کے مطابق” ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ پانامہ کے دورے کے دوران متعلقہ معاملات پر بات چیت کریں گے۔ جواب میں، پانامہ کے صدر نے اسی دن پانامہ نہر پر اپنی خودمختاری پر دوبارہ زور دیا۔
Trending
- کراچی؛ باڑے میں آتشزدگی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی 8 بھینسیں جھلس کر ہلاک
- اسحاق ڈار کے سعودی اور مصری ہم منصب سے رابطے ، اسلام آباد مذاکرات پر گفتگو
- ٹرمپ اور ایران کی دھمکیوں کے باوجود پاکستانی جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرلی
- پی ایس ایل 11: کراچی کنگز کو شکست، حیدرآباد کنگز مین کی ایونٹ میں پہلی فتح
- ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس، وطن عزیز کو کلیدی ملک قرار دے دیا گیا
- کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیرملکی پلیئرز کی انجوائےمنٹ، پیڈل اور گالف سرگرمیوں میں شرکت
- پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات فیصلہ کن لمحہ ہے، شاہد آفریدی
- کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر فٹنس کے مسائل سے دو چار
- روئی کی قیمتیں دو سال کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
- ترک صدر نے مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے دی