امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے کے آخر میں پانامہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ پانامہ کے صدر مولینو نے کہا کہ وہ روبیو کے ساتھ ملاقات میں پانامہ نہر کے کنٹرول کے معاملے پر بات چیت نہیں کریں گے۔ نہ ہی متعلقہ مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پانامہ نہر ، پانامہ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، ہماری نہر مسلسل وسیع ہو رہی ہے، جو دنیا کے لیے منصفانہ خدمات فراہم کر رہی ہے اور عالمی تجارت کے توازن کو یقینی بنا رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ روبیو فروری کے آغاز میں پانامہ کا دورہ کرنے اور پانامہ نہر کے معائنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل، امریکی صدر ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ پانامہ نہر ایک “امریکی اہم قومی اثاثہ” ہے، اور امریکہ پانامہ سے اس نہر کی واپسی” کا مطالبہ کر سکتا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے فوجی اقدامات کے استعمال سے بھی انکار نہیں کیا۔ روبیو نے 30 تاریخ کو دعویٰ کیا کہ پانامہ نہر کا کنٹرول حاصل کرنا “امریکہ کے مفادات کے مطابق” ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ پانامہ کے دورے کے دوران متعلقہ معاملات پر بات چیت کریں گے۔ جواب میں، پانامہ کے صدر نے اسی دن پانامہ نہر پر اپنی خودمختاری پر دوبارہ زور دیا۔
Trending
- بھارتی روپے کی قدر میں تاریخی کمی کے سامنے مودی کا بیانیہ زمیں بوس
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی