پیرس: فرانس کی زیرقیادت30 سے زائد ممالک کا فوجی سربراہ اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر پہنچنے کے بعد یوکرین کی سلامتی میں حصہ لینے کے لیے تمام ممالک کی آمادگی پر توجہ مرکوز کی گئی، خاص طور پر یوکرین کے لیےایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تشکیل پر غور کیا گیا۔
گزشتہ ماہ برطانوی میڈیا نے خبر دی تھی کہ کئی یورپی ممالک کے فوجی رہنما یوکرین کے لیے تقریباً 30 ہزار افراد پر مشتمل "اسپورٹ” فورس تشکیل دینے پر غور کر رہے ہیں، جو مشرقی یوکرین میں میدان جنگ کی فرنٹ لائن کے باہر تعینات ہو گی اور فضائی طاقت کے ذریعے روس کو روکنے کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرے گی ۔ یوکرین کی مدد کرنے والی "اسپورٹ” فورس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کریں گے۔
پیرس اجلاس میں نیٹو کے تقریباً تمام ممالک کے آرمی چیفس آف اسٹاف یا نمائندگان نے شرکت کی لیکن امریکہ کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ایک فرانسیسی فوجی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کو مدعو نہیں کیا گیا کیونکہ یورپی ممالک یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے بعد یوکرین کی سلامتی کے فریم ورک کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
روس نے واضح طور پر اس اقدام کو "ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس کسی بھی ایسے امن معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرے گا جس کے تحت یوکرین میں نیٹو افواج کی تعیناتی کی اجازت دی جائے۔
Trending
- امریکی جارحیت کے خلاف کوریا کی حمایت میں لڑی جانے والی جنگ کے ایک ہزار سے زائد چینی شہداء کی باقیات کی وطن واپسی
- چین فائر بندی اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے میں متعلقہ فریقوں کی حمایت کرتا ہے، چینی وزارت خارجہ
- جاپان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے، چین
- ’’ انسان آئے تو پرندے نہ گھبرائیں ‘‘: انسان اور فطرت کے تعلق میں یہ تبدیلی کیوں؟
- چین، ایک سو انتالیسویں کینٹن فیئر کے پہلے مرحلے کی آف لائن نمائش کا ختتام
- جاپانی ڈسٹرا ئر’’اکازوچی‘‘کاآبنائے تائیوان سے گزرنا اشتعال انگیزی کے مترادف ہے ، چینی میڈیا
- ڈیزل سے لدا پاکستانی جہاز خیرپور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد واپس ہوگیا
- ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا
- وزیر اعظم سعودیہ، قطر اور ترکیہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان